برطانیہ کے جزائر کناری سے نکالے گئے ان برطانوی مسافروں نے اپنا پہلا دن آئسولیشن سینٹر میں گزارا ہے جن کے کروز شپ میں ہنٹا وائرس پھیل گیا تھا۔ یہ مسافر 'ایم وی ہونڈیئس' نامی بحری جہاز پر سوار تھے جہاں وائرس کی وجہ سے اب تک تین ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
واپسی اور قرنطینہ کا عمل
ایک خصوصی چارٹرڈ پرواز کے ذریعے 20 برطانوی مسافروں سمیت ایک جرمن اور ایک جاپانی شہری کو مانچسٹر ایئرپورٹ لایا گیا، جہاں سے انہیں مِرسی سائیڈ کے ایرو پارک (Arrowe Park) ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ وہی مقام ہے جسے کورونا وائرس کی شروعات میں قرنطینہ کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
وائرس کی شدت اور ہلاکتیں
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق اس بحری سفر کے دوران اب تک 8 افراد بیمار ہوئے ہیں، جن میں سے 6 میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ وائرس کے باعث ہلاک ہونے والوں میں ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن شہری شامل ہے۔ امریکہ اور فرانس نے بھی اپنے مسافروں میں وائرس کی علامات کی تصدیق کی ہے۔
حفاظتی اقدامات اور عوامی خطرہ
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ لائے گئے مسافروں میں فی الحال کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں، تاہم احتیاط کے طور پر ان مسافروں کو 45 دن تک خود ساختہ تنہائی میں رہنا ہوگا
انہیں گھروں تک جانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
آئسولیشن کے دوران ہیلتھ پروٹیکشن ٹیمیں روزانہ ان کی صحت کا جائزہ لیں گی۔
ہنٹا وائرس کتنا خطرناک ہے؟
ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہنٹا وائرس کورونا یا فلو کی طرح تیزی سے نہیں پھیلتا۔ اس کا خطرہ صرف بہت زیادہ قریبی رابطے کی صورت میں ہوتا ہے، اس لیے عام عوام کے لیے خطرے کی شرح انتہائی کم ہے۔ اگر کسی مسافر میں علامات ظاہر ہوئیں تو اسے فوری طور پر لیورپول کے مخصوص متعدی امراض کے یونٹ میں منتقل کر دیا جائے گا۔
برطانوی وزیر صحت کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات احتیاط کے طور پر کیے جا رہے ہیں تاکہ وائرس کو مقامی سطح پر پھیلنے سے روکا جا سکے۔
تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف


Comments
Post a Comment