بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورہِ ناروے کے دوران ایک خاتون صحافی کی جانب سے پوچھے گئے تیکھے سوالات نے بھارت میں ایک نیا سیاسی اور سماجی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ مودی رواں ہفتے اوسلو کے دو روزہ سرکاری دورے پر تھے، جہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران ناروے کی خاتون صحافی نے ان سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر براہِ راست سوالات کیے۔
"آپ سوالات کے جواب کیوں نہیں دیتے؟"
واقعات کے مطابق، جب نریندر مودی اور ناروے کے وزیرِ اعظم جوناس گہر اسٹور مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد جانے لگے، تو نارویجن صحافی ہیلی لِنگ نے مودی کو آواز دیتے ہوئے پوچھا، "وزیرِ اعظم مودی، آپ دنیا کے آزاد ترین میڈیا کے سوالات کا جواب کیوں نہیں دیتے؟" تاہم مودی نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ واضح رہے کہ 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے نریندر مودی نے بھارت میں کوئی روایتی تنہا پریس کانفرنس نہیں کی ہے اور وہ غیر ملکی دوروں پر بھی صحافیوں کے سوالات سے گریز کرتے ہیں۔
بعد ازاں، بھارتی سفارت خانے کی دعوت پر صحافی ہیلی لِنگ نے بھارتی سفارت کاروں کی ایک بریفنگ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے سوال اٹھایا، "ہم بھارت پر کیوں بھروسہ کریں؟ کیا آپ اپنے ملک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟" اس سوال پر سینیئر بھارتی سفارت کار سبی جارج نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ لوگ بھارت کے حجم کو سمجھے بغیر چند این جی اوز کی رپورٹس پڑھ کر ایسے سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت ایک مضبوط اور صدیوں پرانی جمہوریت ہے۔
صحافی کو شدید آن لائن ٹرولنگ کا سامنا
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر وائرل ہونے کے بعد بھارت میں ہیلی لِنگ کے خلاف شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ بھارتی سوشل میڈیا صارفین اور چند نیوز چینلز نے ان پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں "غیر ملکی ایجنٹ"، "جاسوس" اور بھارت کو عالمی سطح پر بدنام کرنے والی سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔
بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے ہیلی لِنگ نے اپنے موقف کا دفاع کیا اور کہا، "صحافت کا کام ہی یہی ہے کہ آپ سوال پوچھیں اور جواب حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ میرا فرض تھا اور میں نے جو سوالات اٹھائے وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی معتبر عالمی تنظیموں کی رپورٹس پر مبنی تھے۔" یاد رہے کہ حال ہی میں جاری ہونے والے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں بھارت 180 ممالک میں سے 157ویں نمبر پر ہے، جبکہ ناروے اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ مودی کے حالیہ دورہِ نیدرلینڈز کے دوران بھی ڈچ صحافیوں نے اقلیتوں کے حقوق پر بھارتی وزارتِ خارجہ سے سخت سوالات کیے تھے۔
عالمی سطح پر بھارتی قیادت سے پریس فریڈم اور انسانی حقوق پر ہونے والے یہ سوالات اب بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Norwegian Journalist's Question to Modi Sparks Controversy in India
A Norwegian journalist's tough questioning of Indian Prime Minister Narendra Modi during his official two-day visit to Oslo has ignited a massive political controversy in India. The confrontation has raised global debates regarding press freedom and human rights.
"Why Don't You Take Questions?"
As Prime Minister Modi walked away following a joint press appearance with Norwegian PM Jonas Gahr Store, journalist Helle Lyng called out to him, asking why he does not take questions from the press. Modi did not respond. Notably, Modi has not held a traditional solo press conference since taking office in 2014.
Later, during a briefing hosted by Indian diplomats, Lyng pressed further, asking, "Why should we trust India? Can you try to stop the human rights violations that go on in your country?" Senior Indian diplomat Sibi George fiercely rejected the allegations, stating that India's constitution guarantees absolute democracy and accused critics of relying on ignorant NGO reports without understanding India's massive scale.
Backlash and Trolling Online
Following the exchange, Lyng faced intense online backlash from Indian social media users and news channels, with many branding her a "foreign plant" and a "spy" attempting to embarrass the nation on a global stage. Responding to the trolling, Lyng told BBC Hindi that she was merely performing her journalistic duty based on credible sources like Amnesty International and Human Rights Watch.
This incident follows closely after a similar encounter in the Netherlands, where Dutch journalists also questioned India's foreign ministry over the alleged decline of minority rights and press freedom, prompting sharp rebuttals from Indian diplomats.
In conclusion, the confrontational exchange underscores growing international scrutiny over India's democratic indicators, even as New Delhi maintains a firm stance against foreign criticism.
Comments
Post a Comment