پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ سٹریٹجک شراکت داری میں ایک نئے باب کا اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔ اس دورے کا محور دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور 'بزنس ٹو بزنس' (B2B) فورم کے ذریعے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
ڈیجیٹل سلک روڈ اور آئی بی آئی ہیڈ کوارٹر
اسلام آباد میں 'آئی بی آئی (IBI) پاکستان ڈیجیٹل اکانومی ہیڈ کوارٹرز' کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے اسے پاک چین دوستی کی ایک طاقتور علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق پاکستان کو ڈیجیٹل اختراع کا علاقائی مرکز بنایا جا رہا ہے۔ اب ہم سڑکوں سے نیٹ ورکس اور مادی انفراسٹرکچر سے ڈیجیٹل فن تعمیر کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جسے 'ڈیجیٹل سلک روڈ' کا نام دیا گیا ہے۔
آئی بی آئی (Beijing United Information Technology) چین کی ایک فارچیون 500 کمپنی ہے جو صنعتی سامان کی ای کامرس میں عالمی شہرت رکھتی ہے۔ پاکستان میں اس کے قیام سے چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (SMEs) کے لیے چین کی وسیع مارکیٹ تک رسائی آسان ہو جائے گی۔
سی پیک 2.0 اور معاشی اشارے
اسحاق ڈار نے بتایا کہ سی پیک (CPEC) کے دوسرے مرحلے میں تعاون کو روایتی شعبوں سے نکال کر مصنوعی ذہانت (AI)، سمارٹ سٹیز اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت جیسے جدید شعبوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ملک میں مہنگائی میں کمی، جی ڈی پی میں اضافے اور شرح سود میں کمی جیسے مثبت معاشی اشاروں کا حوالہ دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان جلد دنیا کی ٹاپ 20 معیشتوں میں شامل ہوگا۔
حالیہ کامیابیاں اور مفاہمتی یادداشتیں
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ صدر آصف علی زرداری کے دورہِ چین کے دوران بھی زراعت، سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے (Desalination) اور چائے کی صنعت میں تعاون کے لیے اہم معاہدے کیے گئے تھے۔ حالیہ عرصے میں چین کے ساتھ ہونے والے 10 ارب ڈالر کے معاہدوں میں سے 30 فیصد پر پہلے ہی کام شروع ہو چکا ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی اعتماد کا ثبوت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا آئندہ دورہ ان کوششوں کو مزید تقویت دے گا، جہاں زراعت، کان کنی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر تعاون کی توقع ہے۔
Read this Article in English (Click Here)
PM Shehbaz to Visit China: Launching the 'Digital Silk Road' and New Economic Ties
In a significant move to bolster bilateral ties, Prime Minister Shehbaz Sharif is scheduled to undertake an official visit to China from May 23-26. Deputy Prime Minister and Foreign Minister Ishaq Dar announced that the visit would focus on a vibrant business-to-business (B2B) forum aimed at deepening commercial and strategic cooperation.
Digital Silk Road and IBI Headquarters
During the launch of the IBI Pakistan Digital Economy Headquarters in Islamabad, DPM Dar described the event as a milestone in the Pakistan-China All-Weather Strategic Partnership. He highlighted that Pakistan is transitioning from physical infrastructure, like roads and energy projects, to "intelligent infrastructure" encompassing AI, ICT, and digital connectivity—effectively building a 'Digital Silk Road'.
IBI, a Fortune 500 industrial e-commerce giant listed on the Shanghai Stock Exchange, provides a massive opportunity for Pakistan's Small and Medium Enterprises (SMEs) to access the vast Chinese and global markets in agriculture and industrial goods.
CPEC 2.0 and Economic Outlook
Under the upgraded CPEC 2.0 framework, cooperation is expanding into digital transformation, smart cities, and climate resilience. DPM Dar shared optimistic economic indicators, including falling inflation and rising GDP, reaffirming the government's commitment to positioning Pakistan among the world's top 20 economies.
Recent Achievements
Following President Zardari's recent visit, where MoUs in desalination and agricultural tech were signed, this upcoming visit aims to finalize more projects. Currently, 30% of the $10 billion in signed MoUs have already transitioned into finalized projects, reflecting strong international confidence in Pakistan's economic trajectory.
The Prime Minister's visit is expected to further align the development strategies of both nations, focusing on sustainable development, mining, and advanced technological exchanges.

Comments
Post a Comment