برطانیہ کے نامور زرعی اور غذائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک انتہائی موسمی حالات، کمر توڑ مہنگائی اور ایران جنگ کے اثرات کے باعث ایک ہولناک غذائی بحران (Food Crisis) کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن حکومت اس سنگین خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ ماہرین کے مطابق، شدید گرمی کی لہر اور خشک سالی کی وجہ سے فصلیں تباہ ہو رہی ہیں اور لائیو اسٹاک شدید دباؤ کا شکار ہے، جس سے معیشت کو کروڑوں پاؤنڈز کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
مہنگائی اور آبنائے ہرمز کا سپلائی کرائسز
رپورٹ کے مطابق، برطانیہ میں اشیاءِ خوردونوش کی قیمتیں اس سال نومبر تک پانچ سال پہلے کے مقابلے میں 50 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔ ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے راستے عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن اور کھاد کی قیمتیں مسلسل آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ برطانوی چانسلر ریچل ریوز کی جانب سے بنیادی غذائی اشیاء کی قیمتوں پر رضاکارانہ حد (Price Caps) مقرر کرنے کی تجویز کو بھی سپر مارکیٹس اور اپوزیشن جماعتوں نے مسترد کر دیا ہے۔
ماہرین کی ایک ٹیم، جس میں مارکس اینڈ اسپینسر کے سابق ڈائریکٹر مائیک بیری اور فوڈ فاؤنڈیشن کی اینا ٹیلر شامل ہیں، نے وزراء کو ایک ہنگامی خط لکھا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قومی فوڈ اسٹریٹجی کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کیا جائے تاکہ ملک کو مستقبل کی شدید گرمی، سپلائی چین کے جھٹکوں اور غذائی قلت سے بچایا جا سکے۔
قومی سلامتی کا مسئلہ
سابق برطانوی جنرل رچرڈ نوجی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غذائی تحفظ کو اب ایک اعلیٰ ترین "قومی سلامتی کا مسئلہ" سمجھا جانا چاہیے۔ جنگ اور موسم کی سختی کی وجہ سے نہ تو مقامی کسان خوراک پیدا کر پا رہے ہیں اور نہ ہی باہر سے امپورٹ آسان رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کو سستی خوراک نہ ملی تو لوگ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر قانون اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں، جس سے ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ کلائمیٹ چینج کمیٹی نے بھی انتباہ کیا ہے کہ 2030 کی دہائی تک ماحولیاتی تبدیلیوں سے زراعت کو پہنچنے والا نقصان سالانہ 2 ارب پاؤنڈز تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اب روایتی سستی چھوڑ کر ہنگامی بنیادوں پر ملکی پیداوار بڑھانے اور سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Britain ‘Sleepwalking into a Food Crisis’ Without Urgent Action, Experts Say
Food security experts have warned that Britain is "sleepwalking into a severe food crisis" fueled by extreme heatwaves, surging inflation, and the ongoing geopolitical impacts of the Iran war. Critics argue that the government is failing to address the scale of the threat, as a dry spring and rising temperatures inflict heavy infrastructure and economic strain on domestic agricultural yields.
Inflationary Pressures and Supply Chain Shocks
Food prices in the UK are currently on track to hit 50% higher this November compared to five years ago. Compounding the issue, fuel and fertilizer costs remain volatile due to ongoing supply disruptions running through the strategic Strait of Hormuz. Chancellor Rachel Reeves previously floated the idea of implementing voluntary price caps on staple groceries, but the initiative was swiftly rejected by major supermarkets and opposition groups.
A High-Level National Security Threat
A coalition of prominent experts and retired military officials have written to ministers, urging them to upgrade national defense strategies to incorporate food supply chain resilience. Experts warn that the compounding effects of climate heating and international import challenges could result in severe agricultural damages exceeding £2bn annually by the 2030s, necessitating urgent structural changes to protect domestic production.
The strategic failure to connect environmental degradation with national resource security could lead to long-term economic instability across the United Kingdom if unaddressed.
Comments
Post a Comment