امریکہ ایران امن مذاکرات؛ پاکستان کی سفارتی کوششوں میں تیزی

pak-us-iran-talks

پاکستانی ثالثی کے زیرِ اثر امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کو ٹریک پر لانے کے لیے اسلام آباد نے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ تہران نے تصدیق کی ہے کہ وہ واشنگٹن کے حالیہ جواب کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ تہران سے "درست جواب" کے لیے چند دن انتظار کر سکتے ہیں، لیکن بات چیت ناکام ہونے کی صورت میں دوبارہ حملوں کے لیے بھی مکمل تیار ہیں۔

ٹرمپ کا الٹی میٹم اور سخت امریکی مؤقف

چھ ہفتے قبل ہونے والی عارضی جنگ بندی کے باوجود امن مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایندھن کے بحران کے باعث ٹرمپ کو ملکی سطح پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے تہران کو سخت وارننگ دی ہے کہ ایرانی قیادت کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں؛ یا تو وہ امریکہ کی شرائط کے مطابق امن معاہدے پر دستخط کریں یا پھر امریکی فوج کی جانب سے ایسی جدید ترین فوجی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس امریکی دھمکی کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ جارحیت کی گئی تو اس بار علاقائی جنگ کے شعلے مشرقِ وسطیٰ کی حدود سے باہر تک پھیل جائیں گے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی نقصانات کے ازالے، پابندیوں کے خاتمے اور امریکی افواج کے انخلا جیسے مطالبات پر مبنی تجاویز واشنگٹن کو بھیجی ہیں، جنہیں ٹرمپ ماضی میں مسترد کر چکے ہیں۔

خفیہ معلومات اور ایران کی عسکری تیاری

امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ چھ ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران ایران نے اپنے ڈرون طیاروں کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے اور وہ توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے اپنی عسکری صلاحیتیں بحال کر رہا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق ایران کے پاس ایسے جدید ترین ہتھیار موجود ہیں جو اس نے اب تک اس جنگ میں استعمال ہی نہیں کیے۔ اس کے علاوہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک نیا نگرانی زون قائم کر کے وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے ایرانی حکام سے ہم آہنگی کو لازمی قرار دے دیا ہے، جس سے اس اہم بحری گزرگاہ پر کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

پاکستان کا کلیدی کردار اور قیدیوں کی رہائی

اس تمام تر کشیدگی کے بیچ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی منتقلی اور سفارتی برف پگھلانے میں مصروف ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے دورہِ ایران کے موقع پر بتایا کہ پاکستان کے تعاون سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی دستاویز کے الفاظ پر کئی بار پیغامات کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ اس کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں امریکہ کی جانب سے حراست میں لیے گئے 20 ایرانی ملاح اسلام آباد کے راستے بحفاظت تہران پہنچ چکے ہیں، جسے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی برادری کی نظریں اب پاکستان میں جاری ان سفارتی کوششوں پر لگی ہیں کیونکہ ان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی پر ہی عالمی معیشت اور امن کا دارومدار ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Pakistan Steps Up Diplomatic Bid to Get US-Iran Peace Talks on Track


Pakistan has intensified its diplomatic efforts to expedite peace talks between the United States and Iran. Tehran confirmed it is currently reviewing Washington's latest responses, while US President Donald Trump suggested he could wait a few days for "the right answers" but remains fully prepared to resume military attacks if negotiations fail.

US Ultimatum and Hardline Stance

Six weeks after a fragile ceasefire took effect, negotiations have made little progress, causing global concern over soaring oil prices and inflation. White House Deputy Chief of Staff Stephen Miller issued a stern warning to Tehran, stating that the Iranian leadership must either sign a satisfactory peace agreement or face unprecedented US military punishment. In response, Iran's Revolutionary Guards warned that any renewed aggression would trigger a regional war extending far beyond the Middle East.

Intelligence Reports on Iran's Military Rebuilding

According to US intelligence assessments cited by CNN, Iran has restarted drone production during the ceasefire and is rebuilding its military capabilities faster than anticipated. Iranian military sources claim Tehran possesses advanced, unused weaponry and has implemented a strict new oversight zone in the strategic Strait of Hormuz, complicating maritime transit between Iran and the UAE.

Pakistan's Mediation and Diplomatic Breakthrough

Serving as the primary diplomatic conduit, Pakistan is helping facilitate the exchange of draft ceasefire proposals between Washington and Tehran. The diplomatic engagement, highlighted during Pakistani Interior Minister Mohsin Naqvi's visit to Iran, has already yielded positive results. Twenty Iranian sailors previously detained by the US were successfully repatriated to Tehran via Islamabad following intensive trilateral consultations.

The global community continues to closely monitor Islamabad's mediation, as the outcome of these delicate talks will determine the trajectory of international energy security and geopolitical stability.

Comments