پاکستان کی معروف اداکارہ اور ہوسٹ نادیہ خان عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی سے متعلق اپنے ایک حالیہ بیان کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں نادیہ خان نے قربانی کے عمل کے دوران خون دیکھنے اور جانوروں کے ذبح ہونے کے مناظر پر اپنے ذاتی تحفظات کا اظہار کیا، جس کے بعد مذہبی اور عوامی حلقوں کی جانب سے ان کے خلاف ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
نادیہ خان کا مؤقف اور سوشل میڈیا کا ردِعمل
نادیہ خان نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ وہ قربانی کی شدید حامی ہیں اور اس مذہبی فریضے کی اہمیت سے انکار نہیں کرتیں، لیکن گلیوں اور محلوں میں سرِعام جانوروں کو ذبح کرنے اور ہر طرف خون بہنے کے مناظر ان کے لیے ذہنی طور پر تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ قربانی کا عمل مخصوص اور ڈھکے ہوئے مقامات پر ہونا چاہیے تاکہ عام لوگوں اور خاص طور پر بچوں پر اس کے منفی نفسیاتی اثرات مرتب نہ ہوں۔
تاہم، سوشل میڈیا صارفین کی اکثریت نے ان کے اس بیان کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ عید الاضحیٰ ایک اسلامی شعار ہے اور اس کی روایات صدیوں سے چلی آ رہی ہیں، لہٰذا اس قسم کے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ کچھ صارفین نے ان پر مغربی سوچ کو فروغ دینے کا بھی الزام عائد کیا۔
شوبز شخصیات اور مذہبی شعائر
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی شوبز شخصیت کے عید الاضحیٰ پر دیے گئے بیان پر ہنگامہ کھڑا ہوا ہو۔ اس سے قبل بھی کئی اداکار اپنی ذاتی آراء کے باعث عوامی عتاب کا شکار ہو چکے ہیں۔ نادیہ خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی بات کا مقصد صفائی ستھرائی اور انتظام کو بہتر بنانا تھا نہ کہ مذہبی فریضے پر تنقید، لیکن ناقدین اس وضاحت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
نادیہ خان کے اس بیان نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مذہبی معاملات اور روایات پر شوبز اسٹارز کی جذباتی گفتگو اکثر اوقات ان کے لیے بڑے تنازعات کا سبب بن جاتی ہے۔

Comments
Post a Comment