جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کا ہولناک پھیلاؤ؛ خوف، انکار اور افواہیں ہنگامی امدادی کاموں میں بڑی رکاوٹ
جمہوریہ کانگو (DR Congo) اس وقت ایبولا وائرس کی ایک انتہائی نایاب اور مہلک ترین قسم 'بنڈی بوگیو' (Bundibugyo strain) کے شدید پھیلاؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے اسے بین الاقوامی سطح پر پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا جا چکا ہے۔ اب تک اس وائرس سے 540 سے زائد مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ 131 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم، طبی ماہرین کے مطابق اس وبائی بحران کو مزید ہولناک بنانے والی سب سے بڑی وجہ وائرس کے وجود سے "انکار" اور مقامی آبادی میں پھیلا ہوا شدید "خوف" ہے۔
مقامی کمیونٹیز کا وائرس سے انکار اور اسپتالوں پر حملے
مشرقی کانگو کے بدامنی سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال اس وقت انتہائی نازک ہو چکی ہے جہاں مقامی آبادی کی ایک بڑی تعداد بیماری کے وجود کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر رہی ہے۔ زمینی رپورٹوں کے مطابق، کئی علاقوں میں سیاسی و سماجی رہنما، اساتذہ اور عام شہری ایبولا کو کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک "جادو ٹونا" یا "لعنت" قرار دے رہے ہیں۔ اس شدید عدم اعتماد کا نتیجہ پرتشدد ہنگاموں کی صورت میں نکل رہا ہے۔ حال ہی میں ایبولا کے جاں بحق مریضوں کے لواحقین نے لاشیں زبردستی حاصل کرنے کے لیے ایک آئسولیشن اسپتال پر دھاوا بول دیا اور ہنگامہ آرائی کے دوران دو بڑے طبی خیموں کو آگ لگا دی، جس میں طبی عملہ بھی زخمی ہوا۔
لوگوں میں یہ افواہیں پھیلی ہوئی ہیں کہ ایبولا ٹریٹمنٹ سینٹرز اور اسپتال دراصل انسانی اعضاء نکالنے کے مراکز ہیں۔ اس خوف کی وجہ سے علامات ظاہر ہونے کے باوجود مریض علاج کروانے کے بجائے قرنطینہ مراکز سے فرار ہو رہے ہیں یا گھروں میں چھپ رہے ہیں، جس سے وائرس دیگر صحت مند افراد میں تیزی سے منتقل ہو رہا ہے۔
نایاب 'بنڈی بوگیو' وائرس اور بین الاقوامی امداد میں کٹوتیاں
طبی ماہرین کے مطابق موجودہ وبائی لہر اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ ایبولا کی ایک نایاب ترین قسم ہے جس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ عالمی ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے۔ روایتی تشخیصی کٹس اکثر اس وائرس کو پکڑنے میں ناکام رہتی ہیں، جس کے نمونے ٹیسٹنگ کے لیے بڑے شہروں کی لیبارٹریوں میں بھیجنے پڑتے ہیں اور اس عمل میں کئی دن ضائع ہو جاتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، امریکی امدادی ادارے 'USAID' کے فنڈز میں کٹوتیوں اور بین الاقوامی تعاون میں کمی نے کانگو کے پہلے سے کمزور طبی ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے۔ یہ وائرس ایسے دور دراز مائننگ علاقوں میں پھیلا ہے جہاں باغی گروہ بھی سرگرم ہیں، جس کی وجہ سے ڈبلیو ایچ او اور دیگر طبی ٹیموں کو نقل و حرکت اور متاثرہ افراد تک رسائی حاصل کرنے میں شدید سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔
پڑوسی ممالک میں الرٹ اور مستقبل کا خطرہ
ایبولا وائرس کا یہ پھیلاؤ اب صرف کانگو تک محدود نہیں رہا بلکہ پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی اس کے تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یوگنڈا اور روانڈا نے کانگو کے ساتھ اپنی سرحدوں پر اسکریننگ اور سیکیورٹی سخت کر دی ہے اور پبلک اجتماعات پر عارضی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اگلے چند ہفتوں میں مقامی آبادی کا اعتماد بحال نہ کیا گیا اور افواہوں کا خاتمہ نہ ہوا، تو یہ لہر 2014 کی اس ہولناک وبائی شکل اختیار کر سکتی ہے جس میں 11,000 سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔
ایبولا پر قابو پانا صرف ادویات سے ممکن نہیں، جب تک مقامی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کے ذہنوں سے بیماری کا انکار اور خوف ختم نہ کیا جائے۔

Comments
Post a Comment