پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے افغانستان کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر کابل اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کو پناہ دینا بند نہیں کرتا، تو پاکستان وہی ردعمل دے گا جو اس نے گزشتہ سال بھارت کے خلاف دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کابل انتظامیہ اپنی ضد سے باز نہ آئی تو "جو ہم نے دہلی کے ساتھ کیا، وہی کابل کے ساتھ کریں گے۔"
افغانستان بھارت کی پراکسی بن چکا ہے
خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت افغانستان عملی طور پر بھارتی پالیسیوں کا آلہ کار بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل ہمارے خلاف "ہندوتوا کی جنگ" لڑ رہا ہے اور اس وقت دہلی اور کابل میں کوئی فرق باقی نہیں رہا، اگرچہ پاکستان خلوص دل سے اس کے برعکس خواہش رکھتا تھا۔
وزیر دفاع نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے ترکیہ، سعودی عرب اور قطر جیسے دوست ممالک کے ذریعے کابل کو مذاکرات کی میز پر لانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن افغان حکام زبانی طور پر تو اتفاق کرتے ہیں مگر تحریری طور پر ضمانت دینے سے انکاری ہیں۔ پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغانستان تحریری طور پر یہ یقین دہانی کرائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
آپریشن غضب الحق اور سرحدی صورتحال
واضح رہے کہ فروری 2026 سے پاک افغان سرحد پر کشیدگی جاری ہے اور پاکستان نے افغان طالبان کی جارحیت اور 'فتنہ الخوارج' (ٹی ٹی پی) کے خلاف 'آپریشن غضب الحق' شروع کر رکھا ہے۔ بنوں حملے اور سرحد پار سے ہونے والی مسلسل فائرنگ کے بعد پاک فوج بھرپور جواب دے رہی ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت کی گزشتہ سال کی شکست کے بعد اب نئی دہلی افغانستان کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اندرونی سیاسی اتفاق اور فوجی عدالتیں
وزیر دفاع نے خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تمام سیاسی قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک پیج پر ہے۔ اسد قیصر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے جلد قانون سازی کی جائے گی، جس میں ملزمان کو اپیل کا حق بھی حاصل ہوگا۔
آخر میں انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر افغانستان نے اب بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو صورتحال "کھلی جنگ" میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری کابل پر ہوگی۔
Read this Article in English (Click Here)
"We will do to Kabul what we did to Delhi": Defence Minister Khawaja Asif
Defence Minister Khawaja Asif on Wednesday issued a stern warning to Afghanistan, stating that if Kabul fails to stop harboring terrorists, Pakistan will respond in the same manner it did against India last year. Addressing the National Assembly, Asif asserted, "If they are not ready to cooperate, then what we did with Delhi, we will do the same with Kabul."
Afghanistan as an Indian Proxy
The minister claimed that Afghanistan has effectively become an instrument of Indian policy, fighting a "Hindutva war" against Pakistan. He noted that despite diplomatic efforts through Turkiye, Saudi Arabia, and Qatar, Kabul has refused to provide written guarantees ensuring that Afghan territory will not be used for attacks against Pakistan or to expel terrorists operating there.
Operation Ghazab Lil Haq
Since February 2026, hostilities along the Pak-Afghan border have escalated. Following unprovoked aggression by Taliban forces and the banned 'Fitna al-Khawarij' (TTP), Pakistan launched 'Operation Ghazab Lil Haq'. Asif emphasized that after India's defeat last year, New Delhi is now utilizing Afghan soil to target Pakistan.
Political Consensus and Legislation
Asif expressed cautious optimism regarding domestic alignment, noting that the Khyber-Pakhtunkhwa government is now cooperating in the fight against terrorism. He also mentioned that the government would soon introduce legislation regarding military courts, ensuring the right to appeal for the accused. He warned that if Kabul remains unwilling to act, the situation could escalate into an "open war."

Comments
Post a Comment