ٹیکنالوجی کی دنیا سے بڑی خبر؛ سیمسنگ الیکٹرانکس کی لیبر یونین نے ملک گیر ہڑتال معطل کر دی

samsung-labor-strike-suspended

جنوبی کوریا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی 'سیمسنگ الیکٹرانکس' کی لیبر یونین نے تنخواہوں اور بونس کے معاملے پر ہونے والی اپنی مجوزہ ملک گیر ہڑتال کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق، کمپنی انتظامیہ اور یونین کے درمیان ہونے والے ایک عارضی معاہدے کے بعد ہڑتال کو فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے، جس سے عالمی سطح پر میموری چپس کی سپلائی معطل ہونے کا بڑا خطرہ ٹل گیا ہے۔

18 روزہ ہڑتال اور عارضی معاہدہ

سیمسنگ الیکٹرانکس کی لیبر یونین کے مشترکہ ہیڈ کوارٹر نے جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ انہوں نے 21 مئی سے 7 جون تک شیڈول 18 روزہ عام ہڑتال کو اگلی مہم تک مؤخر کر دیا ہے۔ نئے عارضی معاہدے کے تحت، سیمسنگ انتظامیہ اپنے ملازمین کو کاروباری کارکردگی کی آمدنی کا 10.5 فیصد کے برابر "خصوصی سیمی کنڈکٹر پرفارمنس بونس" دینے پر راضی ہو گئی ہے، اور اس بونس پر کوئی بالائی حد (Cap) مقرر نہیں کی جائے گی۔ اس ڈیل پر حتمی فیصلے کے لیے یونین ارکان جمعہ سے بدھ کے دوران ووٹنگ کریں گے۔

یاد رہے کہ مارچ میں ہونے والی ووٹنگ کے دوران سیمسنگ کے تقریباً 66 ہزار سے زائد ورکرز میں سے 93 فیصد نے ہڑتال کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یونین کا کہنا تھا کہ یہ بھاری اکثریت کمپنی انتظامیہ کے لیے ایک سخت وارننگ تھی کہ وہ ملازمین کے مطالبات کو سنجیدگی سے لے۔ سیمسنگ دنیا کی سب سے بڑی میموری چپس بنانے والی کمپنی ہے، اور اگر یہ ہڑتال ہو جاتی تو عالمی سطح پر اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور دیگر الیکٹرانک اشیاء کی پیداوار شدید متاثر ہو سکتی تھی۔

شیئر ہولڈرز کا قانونی کارروائی کا اعلان

اگرچہ انتظامیہ اور لیبر یونین کے درمیان معاملات طے پا رہے ہیں، لیکن اس معاہدے کو ایک اور رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ شیئر ہولڈرز کے ایک گروپ نے اس عارضی ویج ڈیل (تنخواہ کے معاہدے) کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شیئر ہولڈرز کا مؤقف ہے کہ بغیر کسی حد کے اتنا بھاری بونس دینے سے کمپنی کے منافع اور اسٹاک کی قیمت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ یونین کے ارکان اس ڈیل کو ووٹنگ کے ذریعے منظور کرتے ہیں یا یہ تنازع عدالت کا رخ اختیار کرے گا۔

ٹیکنالوجی اور بزنس کی دنیا کی اس بڑی پیش رفت پر مارکیٹ کے ماہرین گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ سیمسنگ کی پیداوار کا براہِ راست اثر عالمی ٹیک سپلائی چین پر پڑتا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

South Korea's Samsung Labor Union Suspends General Strike


Unionised workers at Samsung Electronics in South Korea have decided to suspend their plans for a general strike following a tentative agreement with the management. The suspension has averted a major threat of production disruptions at the world's biggest memory chipmaker, which could have heavily impacted the global tech supply chain.

18-Day Strike Postponed for Bonus Deal

The joint headquarters of Samsung Electronics' labour union announced through local media that the general strike, originally scheduled to run for 18 days from May 21 to June 7, has been postponed until further notice. Under the newly proposed tentative agreement, Samsung will allocate a special semiconductor performance bonus equivalent to 10.5% of business performance earnings without any upper cap. Union members will cast their ballots from Friday to Wednesday to vote on this deal.

Earlier in March, a massive 93% of the 66,019 workers who cast ballots voted to authorise the strike. The union stated that this overwhelming support served as a strong warning for the management to address their demands regarding bonuses and wage increments.

Shareholders Threaten Legal Action

Despite the breakthrough between the union and the management, the deal faces new complications. A group of Samsung shareholders announced their intention to take legal action against the tentative wage agreement, labeling it illegal. The shareholders argue that an uncapped bonus scheme could hurt company profits and investor returns. Tech analysts are closely watching the upcoming union vote to see if a permanent resolution will be reached.

As the largest producer of memory chips globally, any labor dispute at Samsung Electronics carries massive weight for international tech markets and hardware manufacturers.

Comments