امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف عائد اقتصادی اور بحری ناکہ بندی اس وقت تک "کامل قوت اور اثر" کے ساتھ برقرار رہے گی جب تک کہ جوہری پروگرام پر ایک باضابطہ اور تصدیق شدہ امن معاہدے پر دونوں ممالک دستخط نہیں کر دیتے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات منظم اور مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ معاہدے کے لیے جلدی نہ کریں کیونکہ وقت امریکہ کے حق میں ہے۔
پاکستان کی ثالثی اور معاہدے کا فریم ورک
پاکستان کی فعال ثالثی کے نتیجے میں تین ماہ سے جاری اس جنگ کے خاتمے کی امیدیں روشن ہو گئی ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی ہے کہ سٹریٹجک بحری گزرگاہ "آبنائے ہرمز" کو بغیر کسی ٹیکس یا ٹول کے دوبارہ کھولنے کے لیے ایک بنیادی خاکہ (Outline) تیار کر لیا گیا ہے اور گزشتہ 48 گھنٹوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس خاکے پر عملدرآمد مکمل طور پر ایرانی قبولیت اور اس کی پاسداری سے مشروط ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق، مجوزہ مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے تحت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل ہوگا، جس میں اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کی جانے والی کارروائیوں کا خاتمہ اور مذاکرات کے دوران ایرانی تیل پر سے امریکی پابندیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولا جائے گا اور 30 دنوں کے اندر بحری جہازوں کی آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کر دیا جائے گا۔
ایران کا مؤقف اور اندرونی سیاسی صف بندی
دوسری جانب، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں گفتگو کرتے ہوئے عالمی برادری کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیاروں یا خطے میں عدم استحکام کا خواہشمند نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تل ابیب (اسرائیل) ہے جو 'گریٹر اسرائیل' کے خواب کے چکر میں خطے کے امن کو تباہ کر رہا ہے۔ ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ملک کا کوئی بھی بڑا فیصلہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے دائرہ کار سے باہر اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا نے امریکی حکام پر حقائق کو مسخ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی توانائی کی منڈی کو ایران نے نہیں بلکہ امریکہ کی غیر قانونی پابندیوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور یہ مؤقف براہِ راست پاکستانی ثالث کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دیا گیا ہے۔
اسرائیل کا تحفظات اور ٹرمپ سے رابطہ
مذاکرات میں پیش رفت کے بیچ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ اسرائیلی سیاسی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو نے ٹرمپ پر زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے باوجود اسرائیل لبنان سمیت تمام محاذوں پر خطرات کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے مکمل آزاد رہے گا۔ صدر ٹرمپ نے اس اصولی موقف کی توثیق کرتے ہوئے اسرائیل کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ابھی کئی پیچیدہ مراحل باقی ہیں۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ان بالواسطہ مذاکرات پر اس وقت پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز کا کھلنا عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Blockade Will Remain in Full Force Until Agreement is Signed: Trump on Iran Deal
US President Donald Trump announced on Sunday that the blockade on Iran will remain in "full force and effect" until a formal, certified, and signed agreement on the nuclear issue is reached. Posting on Truth Social, Trump noted that while negotiations are proceeding in an orderly and constructive manner, he has instructed his team not to rush, emphasizing that time is on the side of the United States.
Pakistan's Mediation and Outline for Strait of Hormuz
Brokered by Pakistani mediators, the indirect peace talks have seen significant diplomatic progress. US Secretary of State Marco Rubio, speaking in New Delhi, confirmed that an outline to reopen the strategic Strait of Hormuz without tolls has been developed following intense diplomacy over the last 48 hours. Rubio stressed that a final resolution would require full Iranian acceptance and total compliance regarding its past nuclear ambitions.
According to Iranian state sources, the potential Memorandum of Understanding (MoU) includes an end to the war on all fronts—including regional conflicts involving Israel in Lebanon—along with a temporary waiver on Iranian oil sanctions. If finalized, navigation through the waterway would gradually restore to pre-war operational capacities within 30 days.
Tehran's Terms and Israel's Strategic Freedom
Iranian President Masoud Pezeshkian reiterated that Tehran does not seek nuclear weapons, shifting blame onto Tel Aviv for regional instability. Pezeshkian emphasized that no definitive diplomatic decisions would be executed outside the framework of the Supreme National Security Council and without the explicit endorsement of Supreme Leader Mojtaba Khamenei.
Meanwhile, Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu held a phone call with President Trump to safeguard Israel's strategic perimeter. Netanyahu emphasized that Israel must maintain full operational freedom of action against threats in all arenas, including Lebanon, a principle that Trump reportedly supported as diplomatic details continue to be negotiated.
The global community remains highly focused on Islamabad's ongoing mediation efforts, as a successful resolution is vital for securing international energy markets.
Comments
Post a Comment