امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا دورہِ بھارت؛ کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے کی سفارتی کوشش

marco-rubio-india-visit
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو ہفتے کے روز بھارت پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا مشن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور محصولات (Tariffs) کی وجہ سے متاثر ہونے والے باہمی تعلقات کو دوبارہ پٹری پر لانا ہے۔ کولکتہ پہنچنے کے بعد مارکو روبیو نے مدر ٹریسا کی فلاحی تنظیم کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا، جس کے بعد وہ نئی دہلی میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے اہم ملاقات کریں گے۔

تعلقات میں دوری کی بنیادی وجوہات

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مارکو روبیو کے اس چار روزہ دورے کا محور تجارت، توانائی اور دفاعی تعاون بڑھانا ہے۔ واشنگٹن طویل عرصے سے بھارت کو خطے میں روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ایک متبادل طاقت کے طور پر ساتھ ملانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، پچھلے سال ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری تجارتی محصولات عائد کرنے سے ان کوششوں کو شدید دھچکا لگا تھا۔ اگرچہ عبوری معاہدے کے تحت کچھ محصولات واپس لے لیے گئے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اب تک کوئی جامع تجارتی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔

مزید برآں، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ میں پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار اور واشنگٹن کی اسلام آباد سے بڑھتی ہوئی قربت نے نئی دہلی کو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بھارت کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ حال ہی میں ٹرمپ کے دورہِ چین کے بعد کہیں امریکی ترجیحات بدل نہ جائیں۔

توانائی کا بحران اور امریکی پیشکش

ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی کے بحران نے امریکہ کی ان کوششوں کو بھی متاثر کیا ہے جن کا مقصد بھارت کا روسی تیل پر انحصار کم کرنا تھا۔ اس حوالے سے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکہ بھارت کو توانائی کی سپلائی بڑھانے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے اور واشنگٹن بھارت کو اتنی توانائی فروخت کرنے کے لیے تیار ہے جتنی وہ خریدنا چاہے، کیونکہ بھارت خطے میں ایک بہترین شراکت دار ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں نے نئی دہلی میں بے چینی پیدا کی تھی، لیکن مارکو روبیو کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور معاشی محاذ پر دوریوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Rubio's Trip to India Signals US Need to Repair Ties


United States Secretary of State Marco Rubio arrived in India on Saturday on a critical diplomatic mission to rebuild a strategic partnership strained by President Donald Trump's trade tariffs and Washington's shifting regional engagements. After landing in Kolkata, Rubio visited Mother Teresa's humanitarian headquarters before heading to New Delhi to meet Indian Prime Minister Narendra Modi.

Trade Tariffs and Regional Irritants

According to the State Department, Rubio's four-day visit will focus heavily on bilateral trade, energy security, and defense cooperation. Washington has long viewed India as a vital counterweight to Chinese and Russian influence in the Indo-Pacific. However, ties suffered a setback last year when Trump imposed steep import tariffs on Indian goods. While an interim agreement rolled back some measures, a comprehensive trade pact remains unresolved.

New Delhi's anxieties have been further compounded by Islamabad's emergence as a key interlocutor for Washington amid the ongoing US-Israeli conflict with Iran. Additionally, Trump's recent high-profile visit to Beijing has amplified concerns in India regarding America's long-term geopolitical priorities.

The Energy Dynamics

The energy crisis triggered by the geopolitical conflicts has also complicated US efforts to wean India off its heavy reliance on Russian crude oil. Addressing these challenges, Rubio stated that the US is actively negotiating to expand its share of India's energy supply, noting Washington's willingness to sell as much energy as New Delhi requires to secure its markets.

Policy analysts suggest that while Trump's protectionist approach created a "perfect storm of anxiety" in New Delhi, Rubio's diplomatic outreach signals a mutual desire to stabilize ties and build momentum in areas of shared strategic interest.

Comments