پی ٹی آئی قیادت اور بانی کے خاندان میں دراڑ

A detailed analytical report on the internal rift between PTI leadership and the family of Imran Khan.

تحریر : نصراللہ وڑائچ

پی ٹی آئی قیادت اور بانی کے خاندان کے درمیان بڑھتی خلیج 

تحریک انصاف کا اندرونی بحران

پاکستان کی سیاست میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ایک ایسی جماعت کے طور پر ابھری جس کی بنیاد 'تبدیلی' اور 'جدوجہد' پر تھی۔ لیکن گزشتہ دو سالوں سے، خاص طور پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے، پارٹی ایک نئے اور غیر معمولی بحران کا شکار ہے۔ یہ بحران اب صرف حکومت کے خلاف نہیں رہا، بلکہ پارٹی کے اندرونی ڈھانچے اور بانی کے خاندان کے درمیان اعتماد کے فقدان کی صورت میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ علیمہ خان اور نورین خان کے حالیہ بیانات نے اس بحث کو مہمیز دی ہے کہ کیا موجودہ قیادت واقعی اپنے لیڈر کے ساتھ مخلص ہے؟

علیمہ خانم کا بیانیہ اور قیادت پر دباؤ

عمران خان کی بہن علیمہ خان نے حالیہ دنوں میں جس طرح پارٹی قیادت کو براہِ راست مخاطب کیا ہے، وہ غیر معمولی ہے۔ ان کا یہ مطالبہ کہ تمام اراکینِ پارلیمنٹ اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہوں، دراصل پارٹی کی مرکزی قیادت کے لیے ایک 'چارج شیٹ' ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ جب بانی جیل میں مشکلات کا شکار ہیں، تو قیادت صرف پریس کانفرنسوں اور بیانات تک محدود کیوں ہے؟ یہ سوال تحریک انصاف کے عام کارکن کے دل کی آواز بھی ہے، جو یہ سمجھتا ہے کہ قیادت وہ جارحانہ مزاج نہیں دکھا رہی جس کی توقع عمران خان کے پیروکاروں کو تھی۔

 پارلیمانی کردار اور نورین خان کی مایوسی

نورین خان کا یہ کہنا کہ "جو لوگ اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں، وہ عمران خان کے ووٹوں پر آئے ہیں"، ایک کڑوی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ پی ٹی آئی کے وہ اراکین جو اس وقت قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا حصہ ہیں، انہیں اس بات کا احساس دلایا جا رہا ہے کہ ان کی اولین ترجیح اپنے لیڈر کی رہائی اور ان کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ نورین خان کی مایوسی یہ ظاہر کرتی ہے کہ خاندان یہ سمجھتا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر جو آواز اٹھائی جانی چاہیے تھی، وہ یا تو دب گئی ہے یا پھر اسے جان بوجھ کر کمزور رکھا جا رہا ہے۔

کیا قیادت 'سیٹلمنٹ' کی تلاش میں ہے؟

سیاسی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں عام ہیں کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کا ایک حصہ مقتدر حلقوں کے ساتھ کسی قسم کی 'مفاہمت' یا 'ڈیل' کی کوششوں میں مصروف ہے۔ جب بھی احتجاج کی کال دی جاتی ہے یا کوئی بڑا قدم اٹھانے کا وقت آتا ہے، تو قیادت کی جانب سے لیت و لعل کا مظاہرہ خاندان کے شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ علیمہ خانم کا غصہ اسی وقت سامنے آتا ہے جب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر موجود 'مصلحت پسند' گروہ بانی کے بیانیے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

 بشریٰ بی بی کی قید اور انسانی حقوق کا سوال

صرف عمران خان ہی نہیں، بلکہ بشریٰ بی بی کی قید اور ان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بھی خاندان سخت نالاں ہے۔ علیمہ خان نے بارہا یہ الزام لگایا ہے کہ بشریٰ بی بی کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے اور انہیں تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت دی جا رہی ہے۔ خاندان کا خیال ہے کہ پارٹی قیادت نے بشریٰ بی بی کے لیے وہ مہم نہیں چلائی جو ایک 'فرسٹ لیڈی' اور پارٹی لیڈر کی اہلیہ کے لیے ہونی چاہیے تھی۔

کارکنوں کا جوش بمقابلہ قیادت کی ٹھنڈک

تحریک انصاف کی سب سے بڑی طاقت اس کا جذباتی اور وفادار کارکن ہے۔ لیکن حالیہ مہینوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کارکن تو سڑکوں پر آنے کے لیے تیار ہیں، مگر قیادت انہیں کوئی واضح سمت دینے میں ناکام رہی ہے۔ جب خاندان احتجاج کی کال دیتا ہے اور قیادت اسے 'سیکیورٹی وجوہات' یا 'قانونی مجبوریوں' کی آڑ میں ٹھنڈا کر دیتی ہے، تو اس سے کارکنوں کے اندر بھی مایوسی پھیلتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خاندان اور قیادت کے راستے جدا ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

 کیا یہ قیادت کی نااہلی ہے یا مجبوری؟

اس بحث کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ پارٹی قیادت، بشمول بیرسٹر گوہر اور دیگر سینیئر رہنما، یہ موقف رکھتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی کٹھن وقت سے گزر رہے ہیں جہاں پارٹی کو قانونی طور پر زندہ رکھنا ہی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کے نزدیک جذباتی فیصلے پارٹی پر پابندی یا مزید گرفتاریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ لیکن خاندان اس دلیل کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، ان کے نزدیک "جدوجہد قربانی مانگتی ہے" اور موجودہ قیادت قربانی دینے سے کترا رہی ہے۔

 پسِ پردہ رابطے اور 'ہارڈ لائن' بیانیہ

ترجمان تحریک تحفظِ پاکستان کے انکشافات کہ حکومت کے ساتھ پسِ پردہ رابطے بحال ہوئے ہیں، معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اگر یہ رابطے قیادت کی مرضی سے ہو رہے ہیں اور خاندان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، تو یہ خلیج مزید بڑھے گی۔ خاندان اب 'ہارڈ لائن' بیانیے کا حامی ہے، یعنی وہ کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے براہِ راست عوامی دباؤ کے ذریعے اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں۔

 تحریک انصاف کا مستقبل

اگر تحریک انصاف کی قیادت نے جلد ہی عمران خان کے خاندان کے تحفظات دور نہ کیے، تو پارٹی دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو سکتی ہے۔ ایک وہ جو مصلحت پسندی اور قانونی جنگ پر یقین رکھتا ہے، اور دوسرا وہ جو سڑکوں کی سیاست اور عوامی طاقت کے ذریعے فیصلہ چاہتا ہے۔ عمران خان کی رہائی میں تاخیر پارٹی کے اندر اس آگ کو مزید بھڑکائے گی۔ بانی پی ٹی آئی کو خود اس معاملے میں مداخلت کرنی ہوگی، ورنہ قیادت اور خاندان کے درمیان یہ جنگ پارٹی کی جڑوں کو کھوکھلا کر سکتی ہے۔ 

Comments