اسنوکر کی دنیا پر چین کی حکمرانی

اسنوکر کی دنیا پر چین کی حکمرانی

تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

ایک نئی تاریخ کا آغاز
گزشتہ کئی دہائیوں سے اسنوکر کو ایک خالصتاً برٹش اسپورٹ سمجھا جاتا رہا ہے۔ شیفیلڈ کا کروسیبل تھیٹر اس کھیل کا وہ مقدس مقام ہے جہاں دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں نے جنم لیا۔ لیکن آج منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ حالیہ ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ میں 22 سالہ وو ییزے کی شاندار فتح نے ثابت کر دیا ہے کہ اب اس کھیل کا مرکز یونائیٹڈ کنگڈم سے منتقل ہو کر چین کی طرف جا رہا ہے۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک باقاعدہ تبدیلی ہے جو عالمی کھیلوں کی تاریخ بدلنے والی ہے۔
وو ییزے اور نئے دور کا آغاز
وو ییزے نے فائنل میں سابق ورلڈ چیمپئن شان مرفی کو ایک سخت مقابلے کے بعد 18-17 سے شکست دے کر پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ جیت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ وو کا تعلق چین کے ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں کھیلوں کی کوئی بڑی روایت موجود نہیں تھی۔ ان کا جارحانہ انداز اور مشکل صورتحال میں خود پر قابو رکھنے کی صلاحیت انہیں دیگر کھلاڑیوں سے منفرد بناتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ان کا شاٹ سلیکشن جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
 ڈنگ جنہوئی کا ورثہ اور اثرات
چین میں اسنوکر کے انقلاب کی بنیاد ڈنگ جنہوئی نے رکھی تھی۔ جب 2005 میں انہوں نے محض 18 سال کی عمر میں یوکے چیمپئن شپ جیتی، تو چین میں کروڑوں نوجوانوں نے اس کھیل کو بطور کیریئر اپنانے کا خواب دیکھا۔ آج وو ییزے اور ژاؤ زن ٹونگ جیسے کھلاڑی اسی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ڈنگ نے چین میں اسنوکر کو ایک عوامی کھیل بنا دیا، جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔
An in-depth article about China's dominance in World Snooker and the success of players like Wu Yize.

جارحانہ کھیل بمقابلہ دفاعی انداز
روایتی طور پر اسنوکر میں ڈیفنسو ٹیکٹکس کو بہت اہمیت دی جاتی تھی، لیکن چینی کھلاڑیوں نے اس سوچ کو بدل دیا ہے۔ اسٹیو ڈیوس اور اسٹیفن ہینڈری جیسے لیجنڈز کا کہنا ہے کہ چینی کھلاڑیوں کا انداز انتہائی جارحانہ ہے۔ وہ سیفٹی شاٹس کھیلنے کے بجائے طویل فاصلے سے مشکل پوٹس کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ انداز تماشائیوں کے لیے انتہائی پرکشش ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسنوکر کی گلوبل ویورشپ میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے۔
چین کا مضبوط انفراسٹرکچر اور اکیڈمیز
چین کی اس کامیابی کے پیچھے ان کا مضبوط انفراسٹرکچر ہے۔ چین میں اس وقت ہزاروں ایسی اسنوکر اکیڈمیز موجود ہیں جہاں بچوں کو بچپن سے ہی پروفیشنل کوچنگ دی جاتی ہے۔ برطانیہ کے برعکس، جہاں اسنوکر کلبس کی تعداد کم ہو رہی ہے، چین میں حکومتی سطح پر اس کھیل کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ وہاں کی ٹریننگ سہولیات دنیا میں بہترین تصور کی جاتی ہیں، جہاں کھلاڑیوں کی ٹیکنیکل اسکلز پر دن رات کام ہوتا ہے۔
 ورلڈ رینکنگ میں بڑی تبدیلیاں
اگر ہم موجودہ ورلڈ رینکنگ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔ ٹاپ 32 کھلاڑیوں میں اب چینی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ وو ییزے کی حالیہ کامیابی نے انہیں عالمی رینکنگ میں چوتھے نمبر پر پہنچا دیا ہے۔ گزشتہ سال تک ٹاپ 5 پوزیشنز پر صرف برطانوی کھلاڑیوں کا قبضہ تھا، لیکن اب یہ اجارہ داری ختم ہو رہی ہے۔ ژاؤ زن ٹونگ اور سیاؤ گوڈونگ جیسے نام اب مستقل طور پر بڑے ٹورنامنٹس کے فائنل میں نظر آتے ہیں۔
پرانی نسل کی رخصتی اور نیا دور
اسنوکر کے تین بڑے ستارے رونی او سلیوان، جان ہِگنز اور مارک ولیمز اب اپنے کیریئر کے آخری مراحل میں ہیں۔ اگرچہ وہ اب بھی بہترین کھیل پیش کر رہے ہیں، لیکن وہ اب نوجوان چینی کھلاڑیوں کے اسٹیمینا اور فوکس کا مقابلہ کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ ورلڈ اسنوکر کے حکام کے مطابق، ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں پرانی نسل اب نئی نسل کے لیے جگہ خالی کر رہی ہے۔
معاشی اثرات اور عالمی مارکیٹ
اسنوکر کی معیشت میں بھی چین کا کردار کلیدی ہو چکا ہے۔ زیادہ تر بڑے ٹورنامنٹ اب چین کے شہروں میں منعقد ہو رہے ہیں جہاں پرائز منی برطانیہ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اسپانسر شپ اور براڈ کاسٹنگ رائٹس کے لیے چین ایک بہت بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں ورلڈ چیمپئن شپ بھی شیفیلڈ سے منتقل ہو کر چین جا سکتی ہے۔
 ایک روشن مستقبل
مختصر یہ کہ اسنوکر اب صرف ایک برطانوی کھیل نہیں رہا بلکہ ایک عالمی کھیل بن چکا ہے جس کی باگ ڈور اب چین کے ہاتھوں میں ہے۔ وو ییزے جیسے نوجوانوں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت اور بہترین ٹریننگ سے کسی بھی میدان میں فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔ چین نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اسنوکر کی دنیا کا نیا پاور ہاؤس ہے اور آنے والے برسوں میں اس کی بالادستی مزید مضبوط ہوگی۔

Comments