قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پاک افغان سرحد "چمن بارڈر کراسنگ" کی طویل بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کوئٹہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس صورتحال کو ان ہزاروں خاندانوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیا جن کا روزگار اور زندگی اس سرحدی تجارت سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے مقتدر حلقوں اور متعلقہ حکام سے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے اور سرحد کو فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تضاد پر مبنی پالیسی اور معاشی قتل کا الزام
محمود خان اچکزئی نے خطے کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو پرامن شہری، تاجر اور ٹرانسپورٹرز قانونی کاروبار کرنا چاہتے ہیں، انہیں تو پابندیوں اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جبکہ تشدد کی راہ اپنانے والے عناصر اس بندش سے بالکل بے اثر نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو ایک بڑا تضاد قرار دیتے ہوئے ایک متوازن اور شفاف پالیسی اپنانے پر زور دیا۔ اپوزیشن لیڈر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پاک افغان سرحد پر کسٹمز اور آمد و رفت میں رکاوٹیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں، جس نے تاجروں اور مقامی آبادی کو معاشی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ چمن (بلوچستان) اور سپن بولدک (افغانستان) کے درمیان یہ اہم سرحدی گزرگاہ پاکستانی افواج اور افغان طالبان کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد سے بند چلی آ رہی ہے، جس کے باعث مقامی سطح پر شدید معاشی بحران جنم لے چکا ہے۔
آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کا کردار
اپوزیشن اتحاد (TTAP) کے سربراہ نے آئینی حکمرانی اور جمہوری اقدار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی پالیسیوں کی تشکیل میں پارلیمنٹ کو ہی مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے ملک بھر کی سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ قانون کی حکمرانی اور تمام شہریوں کے یکساں حقوق کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے حقوق کو تسلیم کیے بغیر اور قانونی تجارت کو فروغ دیے بغیر پائیدار ترقی اور خوشحالی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔
محمود خان اچکزئی کے اس سخت موقف کے بعد چمن بارڈر کو کھولنے کا عوامی اور سیاسی مطالبہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔

Comments
Post a Comment