برطانیہ: یہودی کمیونٹی پر حملوں کے بعد نفرت انگیز جرائم کے مقدمات تیز رفتاری سے چلانے کا فیصلہ


برطانیہ میں کراؤن پراسیکیوشن سروس (CPS) کے سربراہ اسٹیفن پارکنسن نے انگلینڈ اور ویلز کے پراسیکیوٹرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ نفرت انگیز جرائم، بالخصوص یہودی کمیونٹی کے خلاف ہونے والے واقعات کے مقدمات کو ہنگامی بنیادوں پر نمٹائیں۔ یہ فیصلہ حال ہی میں ہونے والے متعدد سام دشمنی کے واقعات، جن میں گولڈرز گرین میں دو یہودی افراد کو چاقو مارنے اور مختلف علاقوں میں آتش زنی کی وارداتیں شامل ہیں، کے بعد کیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر پبلک پراسیکیوشن اسٹیفن پارکنسن کا کہنا ہے کہ یہودی برادری اس وقت بحران کی کیفیت میں ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری کارروائی کر کے عوام کا اعتماد بحال کریں۔ انہوں نے پراسیکیوٹرز پر زور دیا کہ وہ "مکمل اور بہترین کیس" تیار کرنے کے انتظار میں تاخیر کرنے کے بجائے دستیاب بنیادی شواہد پر فوری چارجز عائد کریں تاکہ مجرموں کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

پارکنسن نے 2024 میں ساؤتھ پورٹ حملے کے بعد ہونے والے فسادات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب پولیس، پراسیکیوشن اور عدالتوں نے مل کر تیزی سے کام کیا تھا تو فسادات پر قابو پانے میں کامیابی ملی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال برطانیہ میں ایک لاکھ 37 ہزار سے زائد نفرت انگیز جرائم ریکارڈ کیے گئے، لیکن ان میں سے دس فیصد سے بھی کم واقعات میں مجرموں پر چارجز لگائے جا سکے۔ اس کی بڑی وجہ متاثرین کا عدالتی نظام میں تاخیر کی وجہ سے پیچھے ہٹ جانا بتایا گیا ہے۔

چیف پراسیکیوٹر نے خبردار کیا کہ اب سے سام دشمنی اور مسلم کمیونٹی کے خلاف ہونے والے جرائم کا الگ الگ ریکارڈ رکھا جائے گا تاکہ مختلف برادریوں پر ان جرائم کے اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ نیا طریقہ کار تمام نفرت انگیز جرائم پر لاگو ہوگا، لیکن حالیہ دنوں میں یہودی کمیونٹی کو ہدف بنائے جانے کی وجہ سے اس وقت یہ اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف 

Comments