پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھارتی آرمی چیف کے اس حالیہ انٹرویو پر شدید مذمت کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کے وجود اور تاریخ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ "پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جغرافیے اور تاریخ کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں"۔ آئی ایس پی آر نے اس بیان کو اشتعال انگیز اور ہندوتوا ذہنیت کا عکاس قرار دیا ہے۔
پاکستان ایک ناقابلِ فراموش حقیقت ہے
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ہندوتوا قیادت کی وہم و گمان پر مبنی سوچ اور بدخواہی کے باوجود، پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم اور بااثر ملک ہے۔ پاکستان ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے اور جنوبی ایشیا کے جغرافیے اور تاریخ کا ایک انمٹ حصہ ہے۔ فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی نہ تو نظریہ پاکستان کو تسلیم کر پائی ہے اور نہ ہی اس نے تاریخ سے کوئی سبق سیکھا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس طرح کی متکبرانہ، جنگجوانہ اور کم نظر سوچ نے ماضی میں بھی جنوبی ایشیا کو بارہا جنگوں اور بحرانوں کی دھکیل دیا ہے۔ ایک خودمختار ایٹمی پڑوسی ملک کو جغرافیے سے مٹانے کی دھمکی دینا کوئی تزویراتی سگنلنگ (Strategic Signalling) نہیں بلکہ سراسر ذہنی دیوالیہ پن، پاگل پن اور جنگ پسندی ہے۔ بھارتی قیادت کو معلوم ہونا چاہیے کہ جغرافیائی خاتمے کی ایسی کوئی بھی کوشش باہمی اور مکمل تباہی پر ختم ہوگی۔
معرکہِ حق (۲۰۲۵) کا حوالہ اور بھارت کی مایوسی
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ نئی دہلی کی یہ جارحانہ زبان اس کے اعتماد کی نہیں بلکہ اس مایوسی کی عکاس ہے جو اسے پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی پر ہوئی ہے۔ فوج کے میڈیا ونگ نے "معرکہِ حق" (۲۰۲۵ کا پاک بھارت تنازع) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران بھارتی جارحیت کا سارا بھرم بری طرح مٹ چکا ہے۔ واضح رہے کہ معرکہِ حق سے مراد ۲۰۲۵ کا وہ فوجی ٹکراؤ ہے جو ۲۲ اپریل کو پہلگام حملے سے شروع ہوا تھا اور ۱۰ مئی کو پاکستان کے 'آپریشن بنیان مرصوص' کے بعد جنگ بندی پر ختم ہوا تھا۔
پاکستان نے بھارت کو اپنے تاریخی ریکارڈ کا آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کی قیادت آسانی سے اپنے اس چہرے کو فراموش کر دیتی ہے جس کے تحت وہ خطے میں دہشت گردی کا بانی، ریاستی سرپرست، سرحد پار ٹارگٹ کلنگ کا مرتکب اور دنیا بھر میں جھوٹے پروپیگنڈے کا گڑھ بنا ہوا ہے۔
ریاستوں کے لیے سخت وارننگ
پاکستانی فوج نے بھارتی قیادت کو سختی سے مشورہ دیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کو ایک اور ایسے بحران یا جنگ کی طرف دھکیلنے سے باز رہے جس کے نتائج پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے بھی تباہ کن ہوں گے۔ بھارت کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہوگا اور پرامن بقائے باہمی کا طریقہ سیکھنا ہوگا۔ بیان کے آخر میں خبردار کیا گیا کہ پاکستان کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کے ایسے نتائج برآمد ہوں گے جو نہ تو جغرافیائی حدود تک محدود رہیں گے اور نہ ہی بھارت کے لیے سیاسی یا تزویراتی طور پر قابلِ قبول ہوں گے۔
مختصر یہ کہ پاکستان نے بھارت کی گیدڑ بھبکیوں کا جواب تزویراتی پختگی اور دوٹوک الفاظ میں دے کر واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
⬇️ Click to Read this Article in English
ISPR Condemns Indian Army Chief’s Warmongering and Myopic Remarks
The Inter-Services Public Relations (ISPR) has strongly condemned the provocative statements made by the Indian army chief in a recent interview, where he questioned Pakistan's place in "geography and history." The military's media wing labeled the remarks as a reflection of Hindutva-led India's delusion and severe bankruptcy of cognitive capacities.
Pakistan is an Indelible Reality
In a strongly-worded response, the ISPR stated that contrary to India's hallucinational belief system, Pakistan is a country of consequence at the global level, a declared nuclear power, and an unerasable part of South Asia’s geography. The military wing noted that the Indian leadership has failed to reconcile with the very idea of Pakistan even after eight decades, choosing instead a hubristic and jingoistic mindset that repeatedly pushes the region toward crisis.
"Threatening a sovereign nuclear neighbour with elimination from geography is not strategic signalling; it is sheer madness," the statement read, adding that any such geographic obliteration would certainly be mutual and comprehensive. Responsible nuclear states reflect restraint, maturity, and strategic sobriety rather than speaking the language of national erasure.
Frustration Born from Marka-e-Haq (2025)
The ISPR asserted that New Delhi’s aggressive posturing stems from frustration over its inability to harm Pakistan, which was brutally exposed during "Marka-e-Haq." The term refers to the 2025 military conflict between the two nations that began with the Pahalgam attack on April 22 and concluded with a ceasefire on May 10 following Pakistan's Operation Bunyanum Marsoos.
The statement also highlighted India's own documented record of being a harbor of state-sponsored terrorism, regional instability, transnational assassinations, and global disinformation campaigns, which New Delhi conveniently ignores.
A Stern Warning against Misadventure
The Pakistani military advised the Indian leadership not to push South Asia toward another war whose consequences would be devastating for the complete region and beyond. India needs to learn to co-exist peacefully and recognize Pakistan's salience. The ISPR warned that any attempt to target Pakistan would trigger consequences that shall neither be geographically confined nor strategically or politically palatable for India.
In conclusion, Pakistan has made it clear that while it advocates for regional stability, it possesses the capability and resolve to ensure comprehensive mutual destruction if its sovereignty is threatened.
Comments
Post a Comment