اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسی شن بیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے غزہ شہر میں ایک بڑے فضائی حملے کے دوران حماس کے عسکری ونگ کے نو منتخب سربراہ محمد اودہ کو شہید کر دیا ہے۔ یہ کارروائی حماس کے سابقہ عسکری کمانڈر عزالدین الحداد کی ایک اور حملے میں شہادت کے چند ہی دنوں بعد سامنے آئی ہے۔ تاہم حماس کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
عید سے قبل رہائشی عمارت پر میزائل حملہ
طبی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق یہ حملہ غزہ شہر کے ایک مصروف ترین تجارتی مرکز اور مارکیٹ کے علاقے میں واقع الکیالی نامی رہائشی عمارت پر کیا گیا، جہاں عید الاضحیٰ کی مناسبت سے شہریوں کا شدید رش تھا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے بیک وقت پانچ میزائل داغے گئے جس سے عمارت کی اوپر کی تین منزلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ اس حملے کے نتیجے میں کم از کم 3 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں، اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں محمد اودہ کو 7 اکتوبر کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیل ان تمام افراد کا تعاقب جاری رکھے گا جو ان کارروائیوں میں شامل تھے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے محمد اودہ اور ان کے معاونین کی نقل و حرکت کی نگرانی کر رہے تھے جس کے بعد اس خفیہ پناہ گاہ کو نشانہ بنایا گیا۔
جنگ بندی کے باوجود جارحیت اور معطل امن منصوبہ
اکتوبر سے جاری نام نہاد جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل حملوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے اس دورانیے میں اب تک 900 سے زائد فلسطینی اسرائیلی جارحیت کی भेंट چڑھ چکے ہیں۔ مجموعی طور پر اب تک غزہ میں 72,800 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ امریکی سرپرستی میں تیار کردہ امن منصوبہ اس وقت مکمل تعطل کا شکار ہے، خاص طور پر فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والے نئے محاذ کے بعد سفارتی کوششیں بالکل مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے حماس کی قیادت کو مسلسل نشانہ بنائے جانے اور ساتھ ہی لبنان میں حزب اللہ پر حملوں میں تیزی سے خطے میں جاری کشیدگی کسی بھی وقت ہولناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment