خلیج کے خطے میں کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق امریکی افواج نے ایرانی حدود کے اندر ایک فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا اور چار ایرانی ڈرونز مار گرائے، جس کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت میں قائم امریکی فضائی اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز سے جوابی حملہ کر دیا۔ کویتی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے علی الصبح آنے والے ان حملوں کو فضا میں ہی ناکام بنایا۔
ٹرمپ کی ایران اور عمان کو سخت دھمکیاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے ایک اہم اجلاس میں تند و تیز گفتگو کرتے ہوئے تہران کو الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر ایران نے فوری طور پر امن شرائط تسلیم نہ کیں تو وہ "کام تمام" (Finish the job) کر دیں گے۔ صدر ٹرمپ نے عمان کو بھی سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھنا ہوگا ورنہ عمان کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام عمان اور ایران کے سپرد کرنے کا معاہدہ طے پا رہا ہے، جسے وائٹ ہاؤس نے سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور جنگ بندی کا خاتمہ
دوسری جانب لبنان میں صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے جہاں اسرائیل نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے جنوبی لبنان کے ایک بہت بڑے حصے کو باقاعدہ جنگی زون قرار دے دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حکم پر فوج نے رواں ہفتے 550 سے زائد مقامات پر وحشیانہ بمباری کی ہے، جس کے بعد صور (Tyre) کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کے نئے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان اس وقت جنوبی لبنان کے اسٹریٹجک دریا کے کنارے آمنے سامنے کی شدید لڑائی جاری ہے۔
امریکہ ایران کے براہِ راست تصادم اور لبنان پر اسرائیلی حملوں میں تیزی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے کی تمام سفارتی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہوتی نظر آ رہی ہیں۔

Comments
Post a Comment