پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں قومی ٹیم کے نوجوان اسپنر عرفات منہاس نے اپنے ڈیبیو میچ کو یادگار بنا دیا ہے۔ ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کے پاکستانی فیصلے کو درست ثابت کرتے ہوئے عرفات منہاس نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو گھٹنوں پر لا کھڑا کیا، جس کی بدولت پوری مہمان ٹیم 44.1 اوورز میں صرف 200 رنز بنا کر آل آؤٹ ہو گئی۔ پاکستان کو سیریز کے پہلے میچ میں فتح کے لیے 201 رنز کا ہدف ملا ہے۔
پہلی اننگز کا احوال اور عرفات کا "فائیو وکٹ ہال"
میچ کے آغاز سے ہی پاکستانی بولرز نے حریف بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ آسٹریلیا کی جانب سے اوپنر میٹ رینشا 61 اور میتھیو شارٹ 55 رنز بنا کر نمایاں رہے، لیکن ان کے علاوہ مڈل آرڈر کا کوئی بھی کھلاڑی وکٹ پر نہ ٹک سکا۔ مارنس لبوشین اور کیمرون گرین جیسے خطرناک بلے باز صفر پر پویلین لوٹ گئے جبکہ کپتان جوش انگلس بھی صرف 13 رنز بنا سکے۔ پاکستان کی طرف سے اپنا پہلا ون ڈے میچ کھیلنے والے عرفات منہاس نے شاندار لائن اور لینتھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 آسٹریلوی کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے اپنی پہلی ہی میچ میں فائیو وکٹ ہال کا بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ ان کے ساتھ اسپنر ابرار احمد نے 2 جبکہ شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور سلمان علی آغا نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
بڑا اعزاز حاصل کرنے کے بعد عرفات منہاس کا ردِعمل
ڈیبیو میچ میں کینگروز کے خلاف 5 وکٹیں لینے کا بڑا سنگِ میل عبور کرنے کے بعد نوجوان اسپنر عرفات منہاس کا اہم بیان بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے گرین کیپ پہننا اور پہلے ہی میچ میں آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف 5 وکٹیں لینا میرے لیے ایک خواب سچ ہونے جیسا ہے۔ انہوں نے فتح اور بہترین کارکردگی کا کریڈٹ ٹیم مینجمنٹ، کپتان اور سینیئر کھلاڑیوں کے اعتماد کو دیا، جنہوں نے میدان میں ان کا حوصلہ بڑھایا۔ عرفات کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد پچ کی کنڈیشنز کا فائدہ اٹھا کر حریف بلے بازوں کو دباؤ میں لانا تھا جس میں وہ کامیاب رہے۔
پاکستانی اسپنر کے چرچے؛ آسٹریلوی کھلاڑیوں کا بڑا اعتراف
دوسری جانب عرفات منہاس کی اس جادوئی اسپن بولنگ نے آسٹریلوی ڈریسنگ روم میں کھلبلی مچا دی ہے۔ میچ کے بعد آسٹریلوی کھلاڑیوں کی جانب سے بھی نوجوان پاکستانی بولر کے بارے میں بڑے بیانات سامنے آئے ہیں۔ کینگرو بلے بازوں نے اعتراف کیا ہے کہ پنڈی کی پچ پر عرفات کی گیندوں کو سمجھنا ان کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوا اور انہوں نے جس نفاست کے ساتھ بولنگ کی، اس نے آسٹریلوی مڈل آرڈر کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ آسٹریلوی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ اس نوجوان نے اپنے پہلے ہی میچ میں جس پختگی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کو مستقبل کے لیے ایک بہترین اسپنر مل گیا ہے اور سیریز کے اگلے میچوں میں انہیں عرفات کے خلاف نئی حکمتِ عملی تیار کرنی ہوگی۔
راولپنڈی ون ڈے میں اس یادگار بولنگ پرفارمنس نے جہاں پاکستان کی پوزیشن کو مستحکم کر دیا ہے، وہاں عالمی کرکٹ کی توجہ بھی عرفات منہاس کی صلاحیتوں کی طرف مبذول کروا دی ہے۔

Comments
Post a Comment