دباؤ کے باوجود میلیسا بریرا کا فلسطین کی حمایت کا اعلان؛ ہالی ووڈ اداکارہ اپنے موقف پر ڈٹ گئیں


 ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ میلیسا باریرا نے فلمی صنعت کے شدید دباؤ اور کیریئر کو پہنچنے والے نقصانات کے باوجود مظلوم فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھنے کا دو ٹوک اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

میلیسا باریرا، جنہیں حال ہی میں ان کے فلسطین نواز بیانات کی وجہ سے مشہور فلمی سیریز 'سکریم' سے نکال دیا گیا تھا، نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ انہیں خاموش رہنے کے لیے مختلف طریقوں سے دباؤ کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، ان کے نزدیک انسانی زندگیوں کا تحفظ کسی بھی فلمی پروجیکٹ یا مالی فائدے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ "میرا ضمیر مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں معصوم بچوں اور شہریوں کے قتل عام پر خاموش رہوں۔" انہوں نے مزید کہا کہ ہالی ووڈ میں اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندیاں لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن وہ اپنی آواز دبنے نہیں دیں گی۔ میلیسا نے سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں سے اپیل کی کہ وہ بھی سچ کا ساتھ دیں اور غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے آواز بلند کریں۔

میلیسا باریرا کے اس دلیرانہ موقف کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور بڑی تعداد میں فنکار اور انسانی حقوق کے علمبردار ان کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے اس اقدام کو ہالی ووڈ کی "خاموشی کی دیوار" توڑنے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

Comments