پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مامیہ شجافر نے معروف میزبان عفت عمر کے پوڈ کاسٹ "Say It All" میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی، ذہنی و جسمانی صحت کے مسائل اور ڈرامہ انڈسٹری میں کام کے دوران پیش آنے والے ہراسگی کے مبینہ واقعات پر کھل کر گفتگو کی۔ اداکارہ نے دورانِ انٹرویو ساتھی اداکار ارسلان خان پر شوٹنگ سیٹ پر انتہائی نامناسب اور غیر پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے۔
"مجھ پر جسمانی رابطے کے لیے دباؤ ڈالا گیا"
مامیہ شجافر نے اپنے بدترین اداکاری کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھی اداکار نے ان کے سوشل میڈیا پروفائل کو دیکھ کر یہ غلط اندازہ لگایا کہ وہ سیٹ پر حد سے زیادہ بے تکلف ہونے اور جسمانی رابطے (چھونے) پر اعتراض نہیں کریں گی۔ اداکارہ نے واضح کیا، "میں کسی کے ساتھ بلاوجہ گھلنے ملنے والی شخصیت نہیں ہوں۔ میں کسی کو گلے لگانے سے پہلے بھی بہت احتیاط برتتی ہوں اور صرف ہاتھ ملانے کو ترجیح دیتی ہوں، لیکن اس شخص نے مجھے شدید ذہنی اذیت اور عدم تحفظ کا شکار کیا۔"
اداکارہ نے مزید الزام لگایا کہ ایک بحث کے دوران مذکورہ اداکار نے آپے سے باہر ہو کر اپنی بیلٹ کو اس انداز میں ہلایا جیسے وہ انہیں مارنا چاہتا ہو، اور سیٹ پر سب کے سامنے نازیبا زبان استعمال کی۔ مامیہ کا کہنا تھا کہ بار بار منع کرنے کے باوجود وہ زبردستی گلے ملنے کی کوشش کرتا رہا، جس پر انہیں آخر کار سب کے سامنے چلانا پڑا۔ انہوں نے بعد میں انسٹاگرام پر وضاحت بھی کی کہ اس نام سے وابستہ کسی دوسرے بے قصور اداکار کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
برلن فلم فیسٹیول اور ذہنی صحت کے مسائل
انٹرویو کے دوران مامیہ نے اپنی فلم "لالی" کا بھی ذکر کیا جسے 76ویں برلن فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ فلم میں ان کا کردار "زیبا" جذباتی اور ذہنی طور پر ان پر اس قدر حاوی ہو گیا تھا کہ شوٹنگ ختم ہونے کے طویل عرصے بعد بھی وہ اس کے تاریک اثرات سے باہر نہیں نکل پا رہی تھیں اور ان کا لاشعور بری طرح متاثر ہوا تھا۔
خطرناک بیماری 'لوپس' کا سامنا
اداکارہ نے انکشاف کیا کہ وہ طویل عرصے سے "لوپس" (Lupus) نامی ایک آٹو امیون بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں، جس کے باعث انہیں شدید جسمانی اور ذہنی صحت کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بچپن میں اپنی شناخت اور معاشرے میں قبولیت حاصل کرنے کی جدوجہد پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پر شدید بحث کا باعث بننے والا یہ انٹرویو اب انٹرنیٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔
شوبز انڈسٹری میں کام کرنے والی خواتین کے تحفظ اور سیٹ پر پیشہ ورانہ ماحول برقرار رکھنے کے حوالے سے مامیہ کے ان بیانات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Mamya Shajaffar Details Alleged Workplace Harassment on Podcast with Iffat Omar
Pakistani actor Mamya Shajaffar recently appeared on Iffat Omar’s popular podcast "Say It All," where she opened up about her personal identity, severe health struggles, and shocking allegations of workplace harassment within the entertainment industry. During the raw conversation, Mamya detailed her worst acting experience, accusing fellow actor Arsalan Khan of highly uncomfortable and unprofessional behavior.
"I Was Pressured and Disrespected on Set"
Mamya alleged that the co-actor falsely assumed she would be comfortable with physical proximity based on her social media profile. "I am not a touchy-feely person. It takes a lot for me to even hug a close friend," she clarified. She further claimed that despite her clear objections, the individual kept attempting physical contact, causing the director to intervene.
The situation allegedly escalated during an on-set discussion regarding the legendary writer Manto. Mamya claimed that following a disagreement, the actor aggressively shook his belt as if threatening to hit her and used highly inappropriate language. She later clarified on Instagram to ensure an innocent actor sharing the same name would not be mistakenly blamed by netizens.
Psychological Toll and Battle with Lupus
Reflecting on her film "Lali," which was screened at the prestigious 76th Berlin Film Festival, Mamya shared how embodying her dark character "Zeba" left a lasting psychological toll on her subconscious long after filming wrapped. She also opened up about her ongoing battle with Lupus, a complex autoimmune disease, alongside childhood struggles with societal acceptance. Reports indicate that the controversial interview has since been taken down from official channels.
Her bold revelations have once again sparked critical conversations regarding the safety and professional boundaries for women working in Pakistan's entertainment sector.
Comments
Post a Comment