ایرانی فوج مکمل تباہ ہو چکی، تہران اب سفید جھنڈا لہرا کر ہتھیار ڈال دے: ڈونلڈ ٹرمپ


 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو اب سفید جھنڈا لہرا کر ہتھیار ڈال دینے چاہئیں کیونکہ امریکہ اس کی فوج کو مکمل طور پر تباہ کر چکا ہے۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی طاقت اب صرف معمولی ہتھیاروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور عوامی سطح پر سخت بیانات کے باوجود تہران اندرونی طور پر تصفیہ کرنے کا خواہش مند ہے۔

صدر ٹرمپ نے خطے میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کی تعریف کرتے ہوئے اسے اسٹیل کی دیوار سے تشبیہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بحریہ کا ہر ایک جہاز اب سمندر کی تہہ میں ہے اور وہ اب صرف چھوٹی کشتیوں پر مشین گنیں لگا کر گھوم رہے ہیں۔ ایرانی جوہری پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سخت الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ امریکہ کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکہ ایک مختصر فوجی جھڑپ میں بھی شامل رہا ہے، تاہم اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے شروع کیا گیا امریکی آپریشن عارضی ہے اور واشنگٹن کسی بڑی جنگ کی تلاش میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے اور امریکہ صرف دفاعی انداز میں اپنی کارروائیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "پروجیکٹ فریڈم" کا مقصد صرف معصوم تجارتی جہازوں کو ایرانی جارحیت سے بچانا ہے اور امریکی افواج کو ایرانی سمندری حدود یا فضائی حدود میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہوئی جب خلیج میں امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ امریکی سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جاری آپریشن کے دوران ایران کی چھ چھوٹی کشتیاں غرق کر دی ہیں۔ یہ تنازع اٹھائیس فروری سے شروع ہوا تھا جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، تاہم اب امریکہ اس اہم بحری راستے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Comments