حکومت کا پیٹرول اور اخراجات بچانے کے لیے سخت اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ


 پاکستان کی وفاقی حکومت نے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر ملک بھر میں جاری کفایت شعاری مہم (Austerity Drive) میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت اب یہ پابندیاں 13 جون 2026 تک نافذ العمل رہیں گی۔

توسیع کی وجوہات:

یہ فیصلہ بنیادی طور پر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور توانائی کے درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ تناؤ نے ایندھن کی سپلائی اور قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے باعث پاکستان جیسے ممالک کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی بچت ناگزیر ہو گئی ہے۔

کفایت شعاری مہم کے اہم نکات:

حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق درج ذیل اقدامات برقرار رہیں گے:

سرکاری گاڑیوں کا پیٹرول: تمام سرکاری افسران اور محکموں کی گاڑیوں کے ایندھن کے کوٹے میں 50 فیصد کٹوتی برقرار رہے گی۔

گاڑیوں کا استعمال: سرکاری گاڑیوں کے بیڑے کا 60 فیصد حصہ سڑکوں سے ہٹا کر گراؤنڈ کر دیا گیا ہے تاکہ ایندھن اور مرمت کے اخراجات بچائے جا سکیں۔

غیر ملکی دوروں پر پابندی: وزراء اور سرکاری حکام کے غیر ضروری غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی رہے گی، صرف انتہائی ناگزیر دوروں کی اجازت دی جائے گی۔

دفتری اخراجات: تمام وفاقی وزارتوں اور محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں 20 فیصد کمی لائیں۔

ورک فروم ہوم: توانائی بچانے کے لیے سرکاری ملازمین کو باری باری گھر سے کام (Work from home) کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ دفاتر میں بجلی اور ایندھن کا استعمال کم ہو۔

معیشت پر اثرات:

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد عام آدمی پر بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومتی سطح پر اخراجات کم کرنا ہے تاکہ ملکی خزانے پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ یہ اقدامات سخت ہیں، لیکن موجودہ عالمی معاشی بحران میں ڈالر بچانے اور پیٹرولیم بل کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہیں۔

تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments