مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز نے بحیرہ روم کے ساحلی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی طرف بڑھنے والے انسانی امداد کے بحری قافلے "گلوبل صمود فلوٹیلا" کو تحفظ فراہم کریں۔ یہ اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امدادی کارکنوں نے بین الاقوامی سمندر میں اپنے قافلے کے گرد مشکوک اور نامعلوم بحری جہازوں کی موجودگی کی اطلاع دی ہے۔
"فلوٹیلا سے دور رہو"؛ فرانسسکا البانیز کا سخت پیغام
اقوامِ متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر اپنے ایک بیان میں واضح الفاظ میں لکھا، "فلوٹیلا سے ہاتھ دور رکھو۔" انہوں نے بحیرہ روم کی تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ان سویلین بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں جو غزہ پر اسرائیل کے ظالمانہ اور نسل کش محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس محاصرے کو ختم کروانے، نسل پرستی کا ساتھ نہ دینے اور انصاف کو ممکن بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
یہ ہنگامی الرٹ گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے جاری کردہ اس پیغام کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی سمندری حدود میں سفر کے دوران ان کے بیڑے کے قریب نامعلوم جنگی بحری جہاز، تیز رفتار کشتیاں اور ڈرونز منڈلاتے ہوئے دیکھے گئے ہیں، جس سے امدادی کارروائی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
Hands off the Flotilla.
— Francesca Albanese, UN Special Rapporteur oPt (@FranceskAlbs) May 18, 2026
I urge Mediterranean states to protect the civilian vessels that are trying to break Israel's genocidal siege on Gaza, and also do what the Global Sumud movement is trying to do:
-Break the siege.
- End complicity with Apartheid.
- Make justice happen. https://t.co/SHAo3uZ1Hm
فلوٹیلا مشن اور اسرائیلی جارحیت کا پس منظر
غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے روانہ ہونے والے اس امدادی قافلے کا پہلا جہاز 12 اپریل کو بارسلونا سے روانہ ہوا تھا جبکہ بنیادی بیڑا 26 اپریل کو اٹلی کے جزیرے سسلی سے اپنی منزل کی طرف بڑھا تھا۔ تاہم، اپریل کے اواخر میں اس قافلے کو کریٹ (Crete) کے ساحل کے قریب اسرائیلی فوج کی جانب سے جارحیت کا نشانہ بنایا گیا، جو کہ ان کی اصل منزل سے تقریباً 600 ناٹیکل میل دور تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 2007 سے غصہ کی پٹی کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے وہاں موجود 24 لاکھ آبادی قحط اور فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 72,000 سے زائد فلسطینی شہید، 172,000 سے زائد زخمی اور پورا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، جس کے بعد یہ امدادی مشن وہاں کے محصورین کے لیے زندگی کی ایک امید بن کر ابھرا ہے۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس وقت بحیرہ روم کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا دنیا ان نہتے امدادی کارکنوں کی حفاظت کے لیے کوئی قدم اٹھاتی ہے یا نہیں۔

Comments
Post a Comment