غزہ امدادی قافلہ؛ اقوامِ متحدہ کی بحیرہ روم کے ممالک سے 'گلوبل صمود فلوٹیلا' کے تحفظ کی اپیل

مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز نے بحیرہ روم کے ساحلی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی طرف بڑھنے والے انسانی امداد کے بحری قافلے "گلوبل صمود فلوٹیلا" کو تحفظ فراہم کریں۔ یہ اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امدادی کارکنوں نے بین الاقوامی سمندر میں اپنے قافلے کے گرد مشکوک اور نامعلوم بحری جہازوں کی موجودگی کی اطلاع دی ہے۔

"فلوٹیلا سے دور رہو"؛ فرانسسکا البانیز کا سخت پیغام

اقوامِ متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر اپنے ایک بیان میں واضح الفاظ میں لکھا، "فلوٹیلا سے ہاتھ دور رکھو۔" انہوں نے بحیرہ روم کی تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ان سویلین بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں جو غزہ پر اسرائیل کے ظالمانہ اور نسل کش محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس محاصرے کو ختم کروانے، نسل پرستی کا ساتھ نہ دینے اور انصاف کو ممکن بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

یہ ہنگامی الرٹ گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے جاری کردہ اس پیغام کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی سمندری حدود میں سفر کے دوران ان کے بیڑے کے قریب نامعلوم جنگی بحری جہاز، تیز رفتار کشتیاں اور ڈرونز منڈلاتے ہوئے دیکھے گئے ہیں، جس سے امدادی کارروائی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

فلوٹیلا مشن اور اسرائیلی جارحیت کا پس منظر

غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے روانہ ہونے والے اس امدادی قافلے کا پہلا جہاز 12 اپریل کو بارسلونا سے روانہ ہوا تھا جبکہ بنیادی بیڑا 26 اپریل کو اٹلی کے جزیرے سسلی سے اپنی منزل کی طرف بڑھا تھا۔ تاہم، اپریل کے اواخر میں اس قافلے کو کریٹ (Crete) کے ساحل کے قریب اسرائیلی فوج کی جانب سے جارحیت کا نشانہ بنایا گیا، جو کہ ان کی اصل منزل سے تقریباً 600 ناٹیکل میل دور تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 2007 سے غصہ کی پٹی کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے وہاں موجود 24 لاکھ آبادی قحط اور فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 72,000 سے زائد فلسطینی شہید، 172,000 سے زائد زخمی اور پورا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، جس کے بعد یہ امدادی مشن وہاں کے محصورین کے لیے زندگی کی ایک امید بن کر ابھرا ہے۔

عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس وقت بحیرہ روم کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا دنیا ان نہتے امدادی کارکنوں کی حفاظت کے لیے کوئی قدم اٹھاتی ہے یا نہیں۔


⬇️ Click to Read this Article in English

UN Special Rapporteur Urges Mediterranean States to Protect Global Sumud Flotilla


UN Special Rapporteur on the Occupied Palestinian Territories Francesca Albanese urged Mediterranean countries on Monday to protect a Gaza-bound humanitarian aid flotilla. This urgent call followed reports from activists stating that unidentified vessels were spotted near their convoy in international waters.

"Hands Off the Flotilla" – Albanese's Strong Message

“Hands off the Flotilla,” Albanese wrote on X, calling on Mediterranean states to “protect the civilian vessels that are trying to break Israel’s genocidal siege on Gaza.” She further demanded that global governments intervene to break the blockade, end complicity with Apartheid, and ensure justice prevails.

The Global Sumud Flotilla issued an alert revealing that unidentified naval vessels, speedboats, and drones were detected near the convoy in international waters in the Mediterranean Sea as the aid mission attempted to advance towards the besieged Gaza Strip.

The Flotilla's Journey and the Crises in Gaza

The humanitarian aid mission began when its first ships left Barcelona on April 12, followed by the main fleet setting sail from Sicily on April 26. However, the Spring Mission faced interference when it was intercepted and targeted by the Israeli army near the coast of Crete in late April, roughly 600 nautical miles away from Gaza.

Since 2007, Israel has maintained a crippling blockade on the Gaza Strip, bringing its population of 2.4 million to the brink of starvation. Since October 2023, the military offensive has resulted in the deaths of over 72,000 people and injured more than 172,000, creating an unprecedented humanitarian catastrophe that this flotilla aims to alleviate.

International observers are now watching closely to see if Mediterranean states will step up to guarantee the safety of civilian aid workers navigating these high-risk waters.

Comments