امریکی سیاست اور عدالتی حلقوں سے اس وقت کی سب سے بڑی اور سنسنی خیز خبر سامنے آئی ہے۔ امریکی وزارتِ انصاف (DOJ) نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جنسی استحصال کا الزام لگانے والی مصنفہ ای جین کیرول (E. Jean Carroll) کے خلاف جھوٹی گواہی (Perjury) دینے کے الزامات پر باقاعدہ مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، یہ تحقیقات ان کے سابقہ عدالتی بیانات اور گواہیوں میں سامنے آنے والے مبینہ تضادات کے بعد شروع کی گئی ہیں، جس نے ٹرمپ کے حامیوں کو ایک نیا سیاسی ہتھیار دے دیا ہے۔
تحقیقات کا پس منظر اور قانونی تضادات
ای جین کیرول نے ڈونلڈ ٹرمپ پر 1990 کی دہائی کے وسط میں نیویارک کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور میں جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سول عدالت نے ٹرمپ کو ہتکِ عزت اور جنسی استحصال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کروڑوں ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ تاہم، اب وفاقی تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا جین کیرول نے مقدمے کی سماعت کے دوران حلف کے تحت دیے گئے بیانات میں جان بوجھ کر جھوٹ بولا یا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اگر جھوٹی گواہی کا جرم ثابت ہو جاتا ہے، تو سول عدالت کے پچھلے فیصلے اور ٹرمپ پر عائد کردہ سزاؤں پر قانونی سوالیہ نشان کھڑے ہو سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی قانونی ٹیم پہلے دن سے ہی ای جین کیرول کے الزامات کو من گھڑت، سیاسی طور پر محرک اور سراسر جھوٹ قرار دیتی آئی ہے۔ ٹرمپ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وزارتِ انصاف کی جانب سے اس تحقیقات کا آغاز اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ٹرمپ کے خلاف سیاسی انتقام کے لیے جھوٹے مقدمات کا سہارا لیا گیا تھا۔
امریکی سیاست پر اثرات
یہ پیش رفت ایک ایسے حساس وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکہ میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین اس کیس کو ٹرمپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے تھے، لیکن اب پینسا پلٹتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ٹرمپ کے حامیوں نے اس تفتیش کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سچائی کی فتح قرار دیا ہے، جبکہ دوسری جانب جین کیرول کی قانونی ٹیم نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔
امریکی وزارتِ انصاف کی یہ تحقیقات آنے والے دنوں میں ٹرمپ کے دیگر قانونی مقدمات اور ان کی سیاسی مہم پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment