ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت اسلام آباد میں ایک اہم اور اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد دیارِ غیر میں مقیم سمندر پار (اوورسیز) پاکستانیوں کو درپیش مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا اور انہیں زیادہ سے زیادہ سفارتی و انتظامی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اجلاس میں وزارت خارجہ اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
پاسپورٹ اور نادرا سہولیات کو تیز کرنے کی ہدایات
اجلاس کے دوران ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ کے حصول، تجدید اور نادرا (NADRA) دستاویزات کی فراہمی میں ہونے والی تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے تمام پاکستانی سفارت خانوں اور قونصلیٹ جنرلز کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اپنی قونصلر سروسز کو مزید فعال، تیز رفتار اور آسان بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے مسائل کا فوری حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اسحاق ڈار نے متعلقہ حکام کو یہ ٹاسک بھی دیا کہ پاسپورٹ کے اجراء میں حائل تمام تکنیکی اور انتظامی رکاوٹیں ہنگامی بنیادوں پر دور کی جائیں تاکہ سمندر پار پاکستانیوں کو سفارت خانوں کے بار بار چکر نہ کاٹنے پڑیں اور ان کا قیمتی وقت بچ سکے۔
معاشی استحکام میں اوورسیز پاکستانیوں کا کردار
ڈپٹی وزیراعظم نے ملکی معیشت کی بحالی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (Remittances) کے کلیدی کردار کو سراہا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت ان کی سرمایہ کاری کو پاکستان میں محفوظ بنانے اور انہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے مزید معاشی مراعات فراہم کرنے کے لیے نئی پالیسیاں متعارف کروا رہی ہے۔
اسحاق ڈار کی ان حالیہ اور سخت ہدایات کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سفارتی سطح پر بہت جلد بڑا اور نظر آنے والا ریلیف ملے گا۔

Comments
Post a Comment