ماؤنٹ ایورسٹ کا راستہ کھل گیا؛ کوہ پیماؤں کے غیر معمولی رش اور ہلاکت خیز حادثات کا خدشہ


کھٹمنڈو:
نیپال کے ماہر کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے کئی ہفتوں کے خطرناک تعطل کے بعد دنیا کی بلند ترین چوٹی، ماؤنٹ ایورسٹ کی مہم جوئی کے لیے راستہ دوبارہ کھول دیا ہے۔ برف کی ایک دیوہیکل اور غیر مستحکم دیوار (Serac) کی وجہ سے مہم جوئی رکی ہوئی تھی، جس کے ہٹنے کے بعد اب سینکڑوں کوہ پیماؤں نے چوٹی کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے، تاہم ماہرین نے کوہ پیماؤں کے غیر معمولی رش اور اس سے وابستہ خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ پر موجود سینکڑوں غیر ملکی کوہ پیما اور ان کے مقامی گائیڈز اس وقت پھنس گئے تھے جب برف کے ایک بڑے بلاک نے چوٹی تک جانے والے واحد عملی راستے کو مسدود کر دیا تھا۔ بدھ کی صبح، ماہر 'شیرپا' کوہ پیماؤں نے اس رکاوٹ کے گرد نئی رسیاں اور سیڑھیاں نصب کیں، جس کے بعد بلندی کی جانب سفر دوبارہ ممکن ہو سکا ہے۔

رواں سیزن میں نیپال نے تقریباً 500 غیر ملکی کوہ پیماؤں کو ایورسٹ سر کرنے کے پرمٹ جاری کیے ہیں۔ چونکہ ہر کوہ پیما کے ساتھ کم از کم ایک مقامی گائیڈ ہوتا ہے، اس لیے اندازہ ہے کہ اگلے دو ہفتوں کے دوران تقریباً 1,000 افراد ایک ساتھ چوٹی تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ راستے کے کھلنے میں تاخیر کی وجہ سے اب کوہ پیماؤں کو کم وقت میں مہم مکمل کرنی ہوگی، جس سے پہاڑ پر "ٹریفک جام" کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ماضی میں ایسا رش آکسیجن کی کمی، تھکن اور جان لیوا حادثات کا باعث بن چکا ہے۔

اس سال دباؤ میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ چین نے تبت کی جانب سے ایورسٹ کا راستہ غیر ملکیوں کے لیے بند کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے تمام مہم جو نیپال کے راستے پر جمع ہو گئے ہیں۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ وہ رش کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹیموں کو مختلف اوقات میں روانہ ہونے کی ہدایت کر رہے ہیں تاکہ ایک ہی وقت میں بہت زیادہ لوگ چوٹی پر موجود نہ ہوں۔

راستہ مکمل طور پر کھلنے سے قبل ہی اس سیزن میں اب تک تین کوہ پیما ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 35 سالہ وجے گھمیرے بھی شامل ہیں، جن کا تعلق نیپال کی دلت برادری سے تھا اور وہ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے پہلے ایورسٹ فاتح تھے۔ ان کی موت بلندی پر آکسیجن کی کمی (Altitude Sickness) کی وجہ سے ہوئی۔ اس کے علاوہ 21 سالہ پھورا گیالجن شیرپا برفانی دراڑ میں گر کر ہلاک ہوئے، جبکہ 51 سالہ تجربہ کار گائیڈ لاکپا ڈینڈی شیرپا بھی مہم کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔

ایورسٹ پر بڑھتے ہوئے رش، آلودگی اور مسلسل حادثات کے باوجود کوہ پیماؤں کی دلچسپی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، حالانکہ نیپال نے رواں سال پرمٹ فیس 11 ہزار ڈالر سے بڑھا کر 15 ہزار ڈالر کر دی ہے۔

Comments