وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی (World No Tobacco Day) کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں سگریٹ نوشی کے خلاف سخت ترین حکومتی مؤقف اپنایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ تمباکو نوشی کسی بھی دوسری مہلک بیماری سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور یہ محض ایک بری عادت نہیں بلکہ انسان کی اپنی صحت، معیشت اور معاشرت پر ایک خودکش حملے کے مترادف ہے۔ انہوں نے تمباکو کو ایک عام وبا سے بھی بدتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا ہر ایک کش انسان کو ایک نئی بیماری کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر پابندی کا سخت فیصلہ
صوبے کے نوجوانوں کو اس لت سے بچانے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب نے بڑے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ پنجاب بھر کے تمام اسکولوں، کالجوں اور جامعات سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی پر پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ سرکاری دفاتر، پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر تمام عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی قانوناً جرم ہے اور اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان نسل کو اس زہر سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت تمام ممکنہ انتظامی اور قانونی اقدامات اٹھا رہی ہے، تاہم تمباکو نوشی کے مضراثرات کے بارے میں معاشرے میں آگاہی پھیلانا صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ سماجی ذمہ داری ہے۔
ملک میں ڈھائی لاکھ اموات پر تشویش اور ہارٹ اٹیک کی بڑی وجہ
وزیراعلیٰ پنجاب نے تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے ہولناک اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث سالانہ اڑھائی لاکھ سے زائد اموات کا ہونا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ آج کل نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک (دل کے دورے) کی بڑھتی ہوئی شرح کی ایک بڑی وجہ سگریٹ نوشی، شیشہ اور ویپ (Vape) کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔
- صحت مند طرزِ زندگی کی اپیل: مریم نواز نے عوام بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو صحت مند اور سگریٹ کے دھوئیں سے پاک ماحول فراہم کرنے کا فرض پورا کریں۔
- عزمِ نو: انہوں نے صوبے کے شہریوں کو ترغیب دی کہ وہ آج ہی کے دن سے تمباکو نوشی کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ کر ایک صحت مند اور محفوظ طرزِ زندگی اپنانے کا پکا عہد کریں۔
حکومتِ پنجاب نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اینٹی اسموکنگ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی تاکہ اگلی نسلوں کو معذوری اور بیماریوں سے بچایا جا سکے۔

Comments
Post a Comment