ٹرمپ نے ایران معاہدے کا مسودہ واپس بھیج دیا؛ جوہری شقوں اور آبنائے ہرمز پر بڑی تبدیلیاں کرنے کا مطالبہ

President Donald Trump reviews official foreign policy documents regarding international nuclear agreements

امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ تاریخی معاہدے پر ایک انتہائی اہم اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے مسودے کو مسترد کرتے ہوئے اس میں متعدد ترامیم شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے [11]۔ امریکی معروف ویب سائٹ 'ایگزیوس' کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے ایک اہم ترین اجلاس کے دوران اس مسودے کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس پر نظرثانی کی واضح ہدایات جاری کیں [11]۔

جوہری پروگرام اور یورینیم ذخائر پر شرائط سخت کرنے کی ہدایت

ایگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے حق میں ضرور ہیں، لیکن وہ اس کے جوہری پروگرام سے متعلق شقوں کو ماضی کے مقابلے میں مزید سخت، ٹھوس اور واضح بنانا چاہتے ہیں [11]۔ امریکی صدر کی جانب سے خاص طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کے مستقبل، اس کے موجودہ ذخائر اور ان کی ممکنہ منتقلی کے طریقہ کار پر مزید وضاحت مانگی گئی ہے [11]۔ امریکی قیادت کا مؤقف ہے کہ ان تمام حساس نکات کو فائنل دستاویز میں اتنے واضح انداز میں لکھا جائے کہ بعد میں کسی بھی قسم کے ابہام یا شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے [11]۔

آبنائے ہرمز اور بحری آمد و رفت کی بحالی پر اصرار

جوہری معاملات کے ساتھ ساتھ، صدر ٹرمپ نے خطے کی سیکیورٹی اور تجارتی روٹس پر بھی کڑی شرائط عائد کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے [11]۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر آبنائے ہرمز کو کھولنے اور وہاں بحری آمد و رفت کی بحالی سے متعلق بعض شقوں کی تحریر (زبان) میں بھی بڑی تبدیلی چاہتے ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ معاہدے کی شرائط محض کاغذی نہیں بلکہ زیادہ مضبوط اور ہر صورت قابلِ عمل ہونی چاہئیں [11]۔

ایران کو 3 دن کی مہلت؛ ایک ہفتے میں معاہدہ متوقع

امریکا کی جانب سے یہ تمام مجوزہ ترامیم اور نئی شرائط باقاعدہ طور پر ایران کو بھجوا دی گئی ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ تہران انتظامیہ تقریباً تین دن کے اندر ان ترمیم شدہ شقوں پر اپنا حتمی جواب دے گی [11]۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا ان متنازع نکات پر متفق ہو جاتے ہیں، تو یہ بڑا معاہدہ ایک ہفتے یا اس سے بھی کم وقت کے اندر طے پا سکتا ہے [11]۔ سفارتی مبصرین کے مطابق، اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو حالیہ شدید کشیدگی کے بعد یہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی پیش رفت ہوگی، تاہم جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی جیسے پیچیدہ معاملات اب بھی اس مذاکراتی عمل کا سب سے کٹھن حصہ بنے ہوئے ہیں [11]۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Trump Sends Back Iran Deal Draft, Demands Major Revisions to Nuclear Clauses


Significant diplomatic movements have emerged regarding the proposed agreement between the United States and Iran [11]. According to a report by the US news portal Axios, President Donald Trump has demanded multiple amendments to the initial draft framework previously negotiated with Iranian officials, reviewing the document during a crucial White House Situation Room meeting [11].

Stricter Stance on Enriched Uranium and Nuclear Infrastructure

A senior US official confirmed that while President Trump intends to secure a deal, he remains firm on tightening the clauses governing Iran's nuclear capabilities [11]. Specifically, the US administration seeks absolute clarity regarding the future of Iran's enriched uranium stockpiles and the logistics of their potential transfer, aiming to eliminate any ambiguities prior to signing the final accord [11].

Stricter Mandates on Strait of Hormuz Navigation

Furthermore, President Trump has targeted clauses related to regional maritime security, demanding revised phrasing for terms regulating the opening of the Strait of Hormuz and the normalization of maritime traffic to ensure the conditions are strictly enforceable [11]. The proposed changes have been dispatched to Tehran, with an official response expected within three days [11]. Sources note that if both nations reconcile their current differences, a comprehensive pact could be fully finalized in less than a week [11].

Comments