اسلام آباد کے بلیو ایریا میں پارکنگ فیس کا نفاذ؛ شہریوں اور تاجروں کا شدید احتجاج

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مرکزی کاروباری مرکز 'ایکسٹینڈیڈ بلیو ایریا' میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے 100 روپے پارکنگ فیس نافذ کرنے پر شہریوں، مریضوں اور تاجر برادری نے شدید احتجاج کیا ہے۔ اس فیصلے کو عام شہریوں کی جیب پر ایک نیا بوجھ قرار دیا جا رہا ہے۔

مریضوں اور تیمارداروں پر اضافی بوجھ

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایکسٹینڈڈ بلیو ایریا کو ایک جدید تجارتی ضلع کے طور پر تیار کیا گیا تھا جہاں اسپتال، ہوٹل، کیفے اور کارپوریٹ دفاتر قائم ہیں۔ اب تک یہ علاقہ ہر قسم کی پارکنگ فیس سے مستثنیٰ تھا، لیکن اچانک فی وزٹ 100 روپے فیس کے نفاذ نے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال میڈیکل سینٹرز اور اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کے لیے ہے، جو پہلے ہی علاج کے بھاری اخراجات سے پریشان ہیں اور اب انہیں ہر چکر پر اضافی پارکنگ فیس ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

کاروبار میں مندی اور تاجروں کے تحفظات

اس فیصلے کے خلاف مقامی دکانداروں، کیفے مالکان اور چھوٹے کاروباری طبقے نے بھی آواز اٹھائی ہے۔ تاجروں کے مطابق، پارکنگ فیس لگنے کے بعد سے گاہکوں کی تعداد (فٹ فال) میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ لوگ اب مختصر ملاقاتوں یا چائے کافی کے لیے اس علاقے کا رخ کرنے سے کترانے لگے ہیں۔ معاشی بدحالی اور بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات کے اس دور میں گاہکوں کی کمی تاجروں کے لیے شدید نقصان کا باعث بن رہی ہے۔

سی ڈی اے کی پلاننگ پر سوالات

عوامی حلقوں اور ناقدین نے سی ڈی اے کی گورننس اور حکمتِ عملی پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ قانون کے مطابق تمام تجارتی عمارتوں، پلازوں، ہوٹلوں اور اسپتالوں کو تعمیراتی منظوری ملنے سے پہلے اپنی حدود میں پارکنگ کی مناسب جگہ فراہم کرنا لازمی تھا۔ تاہم، سی ڈی اے نے مبینہ طور پر کئی ایسے منصوبوں کو کام کرنے کی اجازت دی جن کے پاس پارکنگ کی اپنی کوئی سہولت موجود نہیں تھی، اور اب اس نااہلی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

شہریوں اور تاجروں نے سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس ظالمانہ پارکنگ فیس کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Blue Area Visitors Protest Against New Parking Charges in Islamabad


The Capital Development Authority (CDA) has faced intense public backlash after imposing a Rs 100 parking fee in Islamabad's extended Blue Area. Residents and visitors state that the move is causing immense financial and mental distress to ordinary citizens, patients, and local businesses.

Financial Burden on Patients

The extended Blue Area, home to multiple hospitals, medical complexes, hotels, and corporate offices, had been free of parking costs for years. The sudden introduction of Rs 100 per visit has heavily impacted patients and their attendants. Families dealing with inflation and steep healthcare expenses now view this recurring parking fee as an unjust financial strain.

Decline in Business Footfall

Local business owners, particularly operators of cafes and small retail outlets, have reported a sharp decline in customer visits. Traders claim that visitors are now hesitant to come for short meetings or casual dining due to the high parking charges. This drop in footfall is adding stress to businesses already struggling with high operational costs.

Questions Raised over CDA's Planning

Critics and urban planners have openly questioned the regulatory oversight of the CDA. Citizens argue that commercial plazas, hotels, and hospitals should have been strictly required to build dedicated indoor parking facilities before getting construction approvals. They allege that the CDA allowed these buildings to operate without sufficient spaces, and now the general public is paying the price for poor administrative checks.

Anxious residents and traders have urged the federal authorities to intervene and reverse the parking policy immediately.

Comments