حکومتِ سندھ نے وفاق کی جانب سے شوگر انڈسٹری (چینی کے شعبے) کو فوری طور پر ڈی ریگولیٹ (سرکاری کنٹرول سے آزاد) کرنے کی تجویز کی سخت مخالفت کی ہے۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے کاشتکاروں اور صارفین کے حقوق بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔
کاشتکاروں اور صارفین کے تحفظ کا عزم
سندھ حکومت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ چینی کی قیمتوں اور گنے کی امدادی قیمت (Support Price) پر سے سرکاری کنٹرول فوری طور پر ختم کرنے سے مارکیٹ میں استحکام خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس فیصلے سے مل مالکان کو اجارہ داری قائم کرنے کا موقع مل سکتا ہے، جس کا براہِ راست نقصان غریب کسانوں کو ہوگا۔
صوبائی حکام کے مطابق، چینی ایک حساس بنیادی ضرورت ہے اور مارکیٹ کو مکمل طور پر آزاد چھوڑنے سے قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہو سکتا ہے، جو پہلے سے مہنگائی کے مارے عوام پر مزید بوجھ بنے گا۔ سندھ نے وفاق پر زور دیا ہے کہ اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔
مستقبل کی حکمتِ عملی
سندھ حکومت نے تجویز دی ہے کہ ڈی ریگولیشن کے عمل کو یکمشت نافذ کرنے کے بجائے بتدریج اور ایک جامع پالیسی کے تحت آگے بڑھایا جائے تاکہ مل مالکان اور کاشتکاروں دونوں کے مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ صوبہ اس وقت تک اس فیصلے کی تائید نہیں کرے گا جب تک کسانوں کو ان کی محنت کا پورا صلہ ملنے کی قانونی ضمانت نہیں دی جاتی۔
وفاق اور صوبے کے درمیان چینی کی اس نئی پالیسی پر جاری اختلافِ رائے آنے والے دنوں میں شوگر کرائسز اور قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Sindh Opposes Immediate Sugar Deregulation
The Sindh government has formally opposed the federal government's proposal for the immediate deregulation of the sugar sector, citing potential threats to the interests of sugarcane growers and end consumers.
Protection of Farmers and Consumers
Provincial authorities argued that removing government oversight on sugar pricing and sugarcane support price mechanisms abruptly could lead to market instability and mill-owner monopolies, leaving vulnerable farmers at a disadvantage.
Call for a Phased Policy approach
Advocating for a more cautious, phased strategy rather than an immediate overhaul, Sindh urged the federal government to take all provincial stakeholders into confidence to prevent sudden price hikes in the essential commodity market.
The policy disagreement between the center and the province highlights the ongoing complexities of implementing agricultural and market reforms in Pakistan's vital sugar industry.
Comments
Post a Comment