معرکہ حق کی پہلی سالگرہ: 'پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، ڈی جی آئی ایس پی آر


 ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور پاک افواج کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ جمعرات کے روز معرکہ حق (2025 کے پاک بھارت تنازع) کے ایک سال مکمل ہونے پر پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے اعلیٰ افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے پوری قوم کو اس تاریخی فتح پر مبارکباد دی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایک سال قبل ہم نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان پر دہشت گردی کے جھوٹے الزامات لگائے اور 'فالس فلیگ آپریشنز' کا سہارا لیا، لیکن اب بھارت کا "دہشت گردی کا ڈرامہ" ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ بھارت پاہلگام واقعے کا ایک بھی ثبوت پیش نہیں کر سکا، جبکہ پاکستان نے ملٹی ڈومین وارفیئر (زمین، فضا، سمندر اور سائبر) میں اپنی برتری ثابت کر دی۔

پریس کانفرنس کے دوران سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے ایمان کا حصہ ہے اور سعودی عرب کو لاحق کوئی بھی خطرہ پاکستان کو لاحق خطرہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ آپریشن 'غضب للحک' اب بھی جاری ہے، تاہم پاکستان افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ صرف دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔

پاک بحریہ اور فضائیہ کی کارکردگی: ریئر ایڈمرل علی نے بتایا کہ بھارتی بحریہ نے شمالی بحیرہ عرب میں تجارتی راستے روکنے کی کوشش کی لیکن پاک بحریہ کی چوکسی کے باعث دشمن اپنے ہی ٹھکانوں تک محدود رہا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاک بحریہ اور فضائیہ بھارتی طیارہ بردار جہاز 'وکرانت' کو تباہ کرنے کے لیے مکمل تیار تھے۔

ایئر وائس مارشل غازی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے خلاف 0-8 کا نتیجہ حاصل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے بھارت کے 4 رافیل طیارے، ایک مگ-29، ایک سکھوئی-30، ایک میراج-2000 اور ایک ڈرون مار گرایا۔ مزید برآں، پاکستان کے مقامی طور پر تیار کردہ جے ایف-17 بلاک III طیاروں نے بھارت کے S-400 میزائل سسٹم کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اعلان کیا کہ 14 اگست کو پاکستانی طاقت کا ایک "مختصر نظارہ" عوام کو دکھایا جائے گا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی تنازع ہے اور پاکستان اپنی خود مختاری کا دفاع ہر قیمت پر کرے گا۔

Comments