امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ ڈیل: واشنگٹن کی پانچ سخت ترین شرائط

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'فارس' کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے یا ڈیل تک پہنچنے کے لیے پانچ کلیدی اور سخت ترین شرائط کا خاکہ پیش کر دیا ہے۔ ان شرائط میں سب سے اہم نکتہ ایران کی جوہری تنصیبات کو محدود کرنا ہے، جس کے تحت ایران کو صرف ایک ایٹمی پلانٹ چلانے کی اجازت دینے کی بات کہی گئی ہے۔

امریکہ کی پانچ بڑی شرائط کیا ہیں؟

رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ دیگر چار شرائط میں ایران کو جنگی نقصانات کا کوئی بھی معاوضہ دینے سے صاف انکار شامل ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنا 400 کلوگرام یورینیم امریکہ منتقل کرے، جبکہ ایران کے منجمد اثاثوں کا 25 فیصد حصہ بھی رہا نہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھنے کا کہا گیا ہے۔ آخری شرط کے طور پر، تمام محاذوں پر جنگ کی مستقل معطلی کو جاری مذاکرات کے حتمی نتائج سے مشروط کیا گیا ہے۔

ایران کا جوابی موقف اور مطالبات

دوسری جانب ایران نے بھی اپنی شرائط واضح کر دی ہیں، جو امریکی مطالبات کے بالکل برعکس ہیں۔ ایران کا اصرار ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا فوری اور مکمل خاتمہ کیا جائے، تہران پر عائد معاشی پابندیاں ہٹائی جائیں، اور اس کے تمام منجمد اثاثے فوری رہا کیے جائیں۔ مزید برآں، ایران نے جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر ایرانی خودمختاری کو باقاعدہ تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

پاکستانی ثالثی اور پس منظر

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی تھی، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ پاکستان کی ثالثی کے بعد 8 اپریل کو جنگ بندی عمل میں آئی تھی، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کسی مستقل معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کر دی تھی، اور اب دونوں ممالک کے مطالبات سامنے آنے کے بعد یہ عمل ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

دونوں ممالک کے سخت اور متضاد موقف کے بعد اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا سفارتی کوششیں خطے میں مستقل امن کا راستہ کھول پاتی ہیں یا نہیں۔


⬇️ Click to Read this Article in English

US Outlines 5 Key Conditions for Iran Deal: Report


The United States has outlined five key conditions to reach a potential diplomatic deal with Tehran, according to a report by Iran's semi-official Fars news agency. The foremost condition includes allowing only a single Iranian nuclear facility to remain operational, severely limiting Iran's atomic program.

The Five Demands from Washington

Washington’s remaining four conditions include a flat refusal to pay any compensation or war damages, demanding the immediate transfer of 400 kilograms of Iranian uranium to the United States, withholding the release of even 25% of Iran’s frozen global assets, and conditioning any permanent halt to the war on all active fronts on the final outcome of ongoing negotiations.

Iran's Counter-Conditions

For its part, Iran has put forward a conflicting set of demands. Tehran is insisting on a complete end to the war across all regional fronts, including Lebanon, the lifting of economic sanctions, the immediate release of all frozen Iranian assets, compensation for damages caused by the war, and the official international recognition of Iran’s sovereignty over the crucial Strait of Hormuz.

Background and Pakistani Mediation

Regional tensions had escalated drastically following joint US-Israeli strikes against Iran in February. Tehran retaliated with counter-strikes targeting Israel and US allies in the Gulf, alongside closing the strategic Strait of Hormuz. A temporary ceasefire took effect on April 8 through Pakistani mediation, but talks held in Islamabad failed to establish a lasting agreement. US President Donald Trump later extended the truce indefinitely as diplomatic efforts continue.

With both nations standing firm on deeply contrasting terms, the world watches closely to see if international diplomacy can prevent a renewed outbreak of conflict.

Comments