امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کا دو روزہ اہم دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر ان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو رہا ہے۔ انہوں نے تہران کی جانب سے پیش کی گئی تازہ ترین سفارتی تجویز کو 'ناقابلِ قبول' قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ ایران کی جوہری سرگرمیوں پر 20 سالہ پابندی کے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
پاکستان کے لیے جنگ بندی کا فیصلہ
ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک حیران کن انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی کا فیصلہ انہوں نے دیگر ممالک اور بالخصوص پاکستان کی درخواست پر ایک 'احسان' کے طور پر کیا تھا۔ ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا، "ہم نے یہ جنگ بندی دیگر اقوام کی درخواست پر کی، میں ذاتی طور پر اس کے حق میں نہیں تھا۔ ہم نے یہ پاکستان کے لیے ایک احسان کے طور پر کیا، وہاں کے لوگ، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل شاندار ہیں۔"
تنگہ ہارمز اور چین کا موقف
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ تہران کو 'تنگہ ہارمز' (Strait of Hormuz) کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے فوری طور پر کھولنا چاہیے، جو کہ عالمی توانائی کی سپلائی لائن ہے۔ واضح رہے کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں ایران نے اس تزویراتی آبی گزرگاہ کو بلاک کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 3 فیصد اضافے کے ساتھ 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں اور دنیا بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا نئی دہلی میں بیان
دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں 'ناکام' نہیں ہوئیں بلکہ امریکی رویے اور دونوں ممالک کے درمیان شدید بداعتمادی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ بندی برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ سفارت کاری کو موقع مل سکے، لیکن وہ امریکہ پر بالکل بھروسہ نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنگہ ہارمز صرف دوست ممالک کے جہازوں کے لیے کھلا ہے، جب کہ دشمن ممالک کے لیے یہ بند رہے گا۔
اس کشیدگی کے درمیان، امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور لبنان (حزب اللہ) کے درمیان نازک جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع کر دی گئی ہے، جس سے خطے کو عارضی ریلیف ملا ہے۔

Comments
Post a Comment