Americans are told that they must absorb rocketing costs of war of choice on Iran.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) May 15, 2026
Put aside gas price hike and stock market bubble. Real pain begins when U.S. debt and mortgage rates start to jump. Auto loan delinquencies are already at 30+-year high.
This was all avoidable. pic.twitter.com/dhjcdzTOHc
'امریکہ کی اپنی مرضی کی جنگ' اور معاشی نتائج کی وارننگ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اسے ایران پر مسلط کی گئی اس "اپنی مرضی کی جنگ" کے شدید معاشی نتائج بھگتنا ہوں گے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو تہران کے ساتھ اس تنازع کے بڑھتے ہوئے اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا، "پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور اسٹاک مارکیٹ کے بلبلے کو ایک طرف رکھیں، اصل تکلیف اس وقت شروع ہوگی جب امریکی قرضے اور ہاؤسنگ مارکیٹ کی مارگیج شرحِ سود میں اچانک بڑا اچھال آئے گا۔"
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کے اندرونی معاشی دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں گاڑیوں کے قرضوں کی عدم ادائیگی (ڈیفالٹ کی شرح) پہلے ہی 30 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اس تمام معاشی بحران اور نقصان سے باآسانی بچا جا سکتا تھا لیکن واشنگٹن نے جنگ کا راستہ چنا۔
A civilization that proves incapable of solving the problems it creates is a decadent civilization;
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) May 15, 2026
A civilization that chooses to close its eyes to its most crucial problems is a sick civilization;
A civilization that plays fast and loose with its principles is a dying…
مغربی تہذیب کے زوال اور منافقت پر تنقید
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف لکھنے والے مشہور مصنف ایمی سیزیر (Aimé Césaire) کے تاریخی اقوال کا سہارا لیتے ہوئے مغربی دنیا کی اخلاقی گراوٹ اور منافقت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مغرب اپنی ہی جنگوں اور تسلط پسندی کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے بحرانوں کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
اسماعیل بقائی نے لکھا کہ جو تہذیب اپنے پیدا کردہ مسائل کو حل کرنے سے قاصر ہو وہ زوال پذیر ہوتی ہے اور جو اپنے اہم ترین مسائل سے آنکھیں موند لے وہ بیمار تہذیب کہلاتی ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تل ابیب کی مہم جوئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس مہم کو آغاز میں ایران کو کمزور کرنے کے لیے ایک فیصلہ کن کارروائی کے طور پر پیش کیا گیا تھا، وہ اب ایک طویل اور مہنگی علاقائی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے جس کا کوئی واضح انجام نظر نہیں آ رہا۔
It is now crystal clear that the U.S. is seeking to exploit the number of the so-called co-sponsors of its politically motivated and one-sided draft resolution to manufacture a false image of “broad international support” for its ongoing unlawful actions and to pave the way for…
— I.R.IRAN Mission to UN, NY (@Iran_UN) May 15, 2026
اقوامِ متحدہ میں امریکی قرارداد پر تہران کا سخت ردعمل
اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایک سیاسی محرکات پر مبنی ڈرافٹ قرارداد کے ذریعے اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے عالمی حمایت کا ایک "جھوٹا تاثر" بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی مشن نے واضح کیا کہ واشنگٹن اس قرارداد کے حامی ممالک (Co-sponsors) کی تعداد کو اپنے غیر قانونی اقدامات کے جواز اور خطے میں مزید فوجی مہم جوئی کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ایران نے انتباہ جاری کیا کہ مستقبل میں امریکہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی کشیدگی کی صورت میں ان تمام ممالک پر بھی برابر کی ذمہ داری عائد ہوگی جو اس قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔
ایران سفارت کاری کا حامی ہے: صدر مسعود پزیشکیان کا پاپائے روم کو پیغام
ان تمام تر تلخیوں کے باوجود ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اب بھی سفارت کاری اور پرامن حل کے عزم پر قائم ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے پاپائے روم، پوپ لیو چہار دہم (Pope Leo XIV) کو ایک خصوصی پیغام بھیجا ہے جس میں ایران کے خلاف حالیہ فوجی جارحیت پر کیتھولک رہنما کے اخلاقی اور منطقی موقف کی تعریف کی گئی ہے۔ صدر پزیشکیان نے کہا کہ ایران نے جو بھی جوابی کارروائیاں کیں وہ صرف اپنے دفاع کے قانونی دائرہ کار کے اندر رہ کر کی تھیں، اور اب عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ امریکی غیر قانونی اقدامات کے خلاف ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا انٹرویو: 'ہم دو دن میں ایران کا سب کچھ تباہ کر سکتے ہیں'
تہران کے ان بیانات کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک تازہ انٹرویو میں انتہائی سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اپنے دورہِ چین سے واپسی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ انہوں نے جنگ میں ایرانی مزاحمت کو کم سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا، "میں نے کسی چیز کو کم نہیں سمجھا، ہم نے ان پر ناقابلِ یقین حد تک سخت وار کیا ہے۔ ہم نے صرف ان کے پلوں اور بجلی کے نظاموں کو چھوڑ دیا تھا، لیکن ہم چاہیں تو صرف دو دن کے اندر ان کا یہ پورا انفراسٹرکچر اور سب کچھ تباہ کر سکتے ہیں۔"
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارت کاری کی ناکامی کا گلہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے ساتھ مذاکرات ناقابلِ اعتبار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا، "وہ ہمیں وہ سب کچھ دینے کو تیار ہو جاتے تھے جو ہم چاہتے تھے، لیکن جب بھی کوئی ڈیل طے پاتی، اگلے ہی دن وہ ایسے مکر جاتے جیسے ہماری کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔ ایسا پانچ بار ہو چکا ہے، ان کے ساتھ کچھ تو مسئلہ ہے، وہ پاگل ہیں۔" امریکی مڈٹرم انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ انتخابات کی وجہ سے ایران سے متعلق اپنی پالیسی نرم نہیں کریں گے اور ان کا یہ موقف برقرار ہے کہ ایران کے پاس کوئی جوہری پروگرام نہیں ہونا چاہیے۔
علاقائی کشیدگی کا پس منظر
یاد رہے کہ خطے میں یہ شدید کشیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ بعد ازاں، پاکستان کی ثالثی اور کوششوں کے نتیجے میں 8 اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی نافذ العمل ہوئی تھی۔ اگرچہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی مستقل معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں اس جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کر دی تھی جو اب بھی نافذ ہے لیکن دونوں اطراف کے حالیہ بیانات نے اس نازک امن کو دوبارہ خطرے میں ڈال دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کا اگلا قدم اور امریکی صدر کی یہ کھلی دھمکی آنے والے دنوں میں عالمی معیشت اور پیٹرولیم مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment