آبنائے ہرمز کے لیے ایران کا نیا ٹریفک میکانزم؛ فیس وصول کرنے کا اعلان اور صدر ٹرمپ کی سخت دھمکی

ایران نے خلیج کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرنے والے بحری ٹریفک کو مینیج کرنے کے لیے ایک نیا اور مخصوص روٹ میکانزم تیار کر لیا ہے جسے جلد ہی دنیا کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ہفتے کے روز اس اہم منصوبے کا انکشاف کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نئے انتظام سے صرف وہی تجارتی جہاز اور فریقین فائدہ اٹھا سکیں گے جو ایران کے ساتھ تعاون کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طریقہ کار کے تحت فراہم کی جانے والی خصوصی خدمات کے عوض فیس بھی وصول کی جائے گی۔

'امریکہ کی اپنی مرضی کی جنگ' اور معاشی نتائج کی وارننگ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اسے ایران پر مسلط کی گئی اس "اپنی مرضی کی جنگ" کے شدید معاشی نتائج بھگتنا ہوں گے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو تہران کے ساتھ اس تنازع کے بڑھتے ہوئے اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا، "پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور اسٹاک مارکیٹ کے بلبلے کو ایک طرف رکھیں، اصل تکلیف اس وقت شروع ہوگی جب امریکی قرضے اور ہاؤسنگ مارکیٹ کی مارگیج شرحِ سود میں اچانک بڑا اچھال آئے گا۔"

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کے اندرونی معاشی دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں گاڑیوں کے قرضوں کی عدم ادائیگی (ڈیفالٹ کی شرح) پہلے ہی 30 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اس تمام معاشی بحران اور نقصان سے باآسانی بچا جا سکتا تھا لیکن واشنگٹن نے جنگ کا راستہ چنا۔

مغربی تہذیب کے زوال اور منافقت پر تنقید

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف لکھنے والے مشہور مصنف ایمی سیزیر (Aimé Césaire) کے تاریخی اقوال کا سہارا لیتے ہوئے مغربی دنیا کی اخلاقی گراوٹ اور منافقت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مغرب اپنی ہی جنگوں اور تسلط پسندی کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے بحرانوں کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

اسماعیل بقائی نے لکھا کہ جو تہذیب اپنے پیدا کردہ مسائل کو حل کرنے سے قاصر ہو وہ زوال پذیر ہوتی ہے اور جو اپنے اہم ترین مسائل سے آنکھیں موند لے وہ بیمار تہذیب کہلاتی ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تل ابیب کی مہم جوئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس مہم کو آغاز میں ایران کو کمزور کرنے کے لیے ایک فیصلہ کن کارروائی کے طور پر پیش کیا گیا تھا، وہ اب ایک طویل اور مہنگی علاقائی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے جس کا کوئی واضح انجام نظر نہیں آ رہا۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی قرارداد پر تہران کا سخت ردعمل

اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایک سیاسی محرکات پر مبنی ڈرافٹ قرارداد کے ذریعے اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے عالمی حمایت کا ایک "جھوٹا تاثر" بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی مشن نے واضح کیا کہ واشنگٹن اس قرارداد کے حامی ممالک (Co-sponsors) کی تعداد کو اپنے غیر قانونی اقدامات کے جواز اور خطے میں مزید فوجی مہم جوئی کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ایران نے انتباہ جاری کیا کہ مستقبل میں امریکہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی کشیدگی کی صورت میں ان تمام ممالک پر بھی برابر کی ذمہ داری عائد ہوگی جو اس قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔

ایران سفارت کاری کا حامی ہے: صدر مسعود پزیشکیان کا پاپائے روم کو پیغام

ان تمام تر تلخیوں کے باوجود ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اب بھی سفارت کاری اور پرامن حل کے عزم پر قائم ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے پاپائے روم، پوپ لیو چہار دہم (Pope Leo XIV) کو ایک خصوصی پیغام بھیجا ہے جس میں ایران کے خلاف حالیہ فوجی جارحیت پر کیتھولک رہنما کے اخلاقی اور منطقی موقف کی تعریف کی گئی ہے۔ صدر پزیشکیان نے کہا کہ ایران نے جو بھی جوابی کارروائیاں کیں وہ صرف اپنے دفاع کے قانونی دائرہ کار کے اندر رہ کر کی تھیں، اور اب عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ امریکی غیر قانونی اقدامات کے خلاف ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا انٹرویو: 'ہم دو دن میں ایران کا سب کچھ تباہ کر سکتے ہیں'

تہران کے ان بیانات کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک تازہ انٹرویو میں انتہائی سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اپنے دورہِ چین سے واپسی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ انہوں نے جنگ میں ایرانی مزاحمت کو کم سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا، "میں نے کسی چیز کو کم نہیں سمجھا، ہم نے ان پر ناقابلِ یقین حد تک سخت وار کیا ہے۔ ہم نے صرف ان کے پلوں اور بجلی کے نظاموں کو چھوڑ دیا تھا، لیکن ہم چاہیں تو صرف دو دن کے اندر ان کا یہ پورا انفراسٹرکچر اور سب کچھ تباہ کر سکتے ہیں۔"

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارت کاری کی ناکامی کا گلہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے ساتھ مذاکرات ناقابلِ اعتبار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا، "وہ ہمیں وہ سب کچھ دینے کو تیار ہو جاتے تھے جو ہم چاہتے تھے، لیکن جب بھی کوئی ڈیل طے پاتی، اگلے ہی دن وہ ایسے مکر جاتے جیسے ہماری کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔ ایسا پانچ بار ہو چکا ہے، ان کے ساتھ کچھ تو مسئلہ ہے، وہ پاگل ہیں۔" امریکی مڈٹرم انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ انتخابات کی وجہ سے ایران سے متعلق اپنی پالیسی نرم نہیں کریں گے اور ان کا یہ موقف برقرار ہے کہ ایران کے پاس کوئی جوہری پروگرام نہیں ہونا چاہیے۔

علاقائی کشیدگی کا پس منظر

یاد رہے کہ خطے میں یہ شدید کشیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ بعد ازاں، پاکستان کی ثالثی اور کوششوں کے نتیجے میں 8 اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی نافذ العمل ہوئی تھی۔ اگرچہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی مستقل معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں اس جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کر دی تھی جو اب بھی نافذ ہے لیکن دونوں اطراف کے حالیہ بیانات نے اس نازک امن کو دوبارہ خطرے میں ڈال دیا ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کا اگلا قدم اور امریکی صدر کی یہ کھلی دھمکی آنے والے دنوں میں عالمی معیشت اور پیٹرولیم مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Iran to Unveil Strait of Hormuz Traffic Mechanism Amid Rising Tensions; Trump Issues Infrastructure Threat


Iran has prepared a specialized transit mechanism to manage traffic through the crucial Strait of Hormuz along a designated route that will be unveiled shortly, according to Ebrahim Azizi, head of the Iranian parliament's national security committee. Azizi noted that only commercial vessels and entities cooperating with Tehran would benefit from this arrangement, adding that specific fees would be collected for specialized services provided under the mechanism.

'War of Choice' and Economic Realities

Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi warned that the United States faces severe economic setbacks from its “war of choice” against Iran. In a statement on X, Araghchi argued that American citizens would bear the heavy costs of conflict. “Put aside gas price hikes and stock market bubbles. Real pain begins when US debt and mortgage rates start to jump,” he stated, noting that US auto loan delinquencies had already hit a 30-year high.

Foreign Ministry spokesperson Esmaeil Baghaei further criticized Western policies, invoking writer Aimé Césaire’s "Discourse on Colonialism" to describe Western diplomacy as decadent and incapable of resolving the regional crises it helped generate. Baghaei stated that the initial Western campaign to force Iranian capitulation has instead evolved into a costly, prolonged regional confrontation with no definitive outcome in sight.

Rebuke at the UN and Presidential Commitment to Diplomacy

Iran's Permanent Mission to the United Nations accused Washington of manufacturing a false image of international solidarity by leveraging a politically motivated draft resolution. Tehran warned that countries backing the resolution would share the diplomatic responsibility for enabling future US military adventurism in the region.

Despite the heightened rhetoric, Iranian President Masoud Pezeshkian conveyed a message to Pope Leo XIV, reiterating that Iran remains committed to diplomacy and peaceful solutions. Pezeshkian expressed appreciation for the Catholic leader's logical stance regarding recent military aggressions against Iran, maintaining that Tehran's responses fell strictly within the framework of legitimate defense.

Trump Claims US Can Destroy Iranian Infrastructure 'In Two Days'

Responding to Iranian developments, US President Donald Trump robustly dismissed claims that he had underestimated Tehran's resilience during an interview with Fox News following his trip to China. "I didn't underestimate anything. We hit them unbelievably hard," Trump asserted. "We left their bridges, we left their electricity capacity. We can knock that all out in two days. Everything."

Trump criticized past diplomatic engagements with Tehran, branding the negotiations unreliable and unpredictable. "Every time they make a deal, the next day it's like we didn't have that conversation," Trump claimed. He emphasized his resolute stance that Iran must never be allowed to maintain a nuclear program, regardless of the upcoming US midterm elections in November.

Chronology of the Crisis

Regional instability spiked following US and Israeli strikes against Iran on February 28, which prompted retaliatory strikes from Tehran against Israel and Gulf assets, alongside the temporary closure of the Strait of Hormuz. A diplomatic ceasefire mediated by Pakistan took effect on April 8. While peace talks in Islamabad did not yield a permanent treaty, President Trump subsequently extended the fragile truce indefinitely.

Comments