مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام اور دہائیوں پرانے تنازع کے حل کے لیے ترکیہ نے اسرائیل کے سامنے ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک تجویز پیش کر دی ہے۔ انقرہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اگر اسرائیل بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کو باقاعدہ تسلیم کر لیتا ہے، تو ترکیہ اسے اہم ترین علاقائی بلاک (Regional Bloc) کی مستقل رکنیت دلوانے میں بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔ اس پیشکش کو خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال میں ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے [1.2.1]۔
پیشکش کی شرائط اور علاقائی بلاک کی اہمیت
ترکیہ کے اعلیٰ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں تل ابیب کی تنہائی کو ختم کرنے اور اسے مسلم اکثریتی ممالک کے معاشی و سیاسی نیٹ ورک کا حصہ بنانے کا واحد راستہ فلسطین کے معاملے کا منصفانہ حل ہے [1.2.1, 1.2.2]۔ ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل 1967ء کی حدود کے مطابق القدس (یروشلم) دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم کرتا ہے، تو انقرہ اس کی علاقائی بلاک میں شمولیت کی راہ ہموار کرے گا [1.2.1, 1.2.2]۔ اس شمولیت سے اسرائیل کو خطے میں نہ صرف نئی تجارتی منڈیاں میسر آئیں گی بلکہ سیکیورٹی کے شعبے میں بھی بڑے فوائد حاصل ہوں گے [1.2.1, 1.2.4]۔
عالمی برادری اور مسلم امہ کا ردِعمل
اسرائیل طویل عرصے سے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے (Normalisation) کے لیے کوشاں ہے، تاہم ترکیہ نے اس عمل کو فلسطینیوں کے حقوق سے مشروط کر کے سفارتی میدان میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے [1.2.1, 1.2.2]۔ ماہرینِ خارجہ امور کا ماننا ہے کہ ترکیہ کی اس پیشکش سے جہاں اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ بڑھے گا، وہاں فلسطینی قیادت (حماس اور فتح) کو بھی عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں مدد ملے گی [1.2.2, 1.2.4]۔ اب گیند اسرائیل کی عدالت میں ہے کہ وہ معاشی و علاقائی ترقی کو ترجیح دیتا ہے یا اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھتا ہے [1.2.1]۔
ترکیہ کی یہ سفارتی پیشکش مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو جنگ کے بجائے مذاکرات اور معاشی شراکت داری کے ذریعے حل کرنے کی جانب ایک انتہائی جاندار قدم ہے [1.2.1, 1.2.4]۔

Comments
Post a Comment