اسرائیل کے مرکزی شہر بیت شمس کے قریب ہفتے کی دیر رات ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی جس سے قریبی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم، اسرائیل کی سرکاری دفاعی کمپنی 'تومر' (Tomer) نے واضح کیا ہے کہ یہ دھماکہ کسی حملے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک پہلے سے طے شدہ اور کنٹرولڈ ٹیسٹ کا حصہ تھا۔
راکٹس اور میزائل انجن کا تجربہ
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکے کے بعد علاقے سے آگ کے شعلے اور دھوئیں کے گہرے بادل بلند ہو رہے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ دھماکہ تومر کمپنی کے ایک ٹیسٹنگ گراؤنڈ پر ہوا جو خاص طور پر راکٹس اور میزائلوں کے انجن تیار کرتی ہے۔ کمپنی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ یہ ایک "پہلے سے منصوبہ بند تجربہ" تھا جسے مقررہ شیڈول کے مطابق کامیابی سے انجام دیا گیا۔
Massive Mushroom Explosion Rocks Beit Shemesh West of Al-Quds
— Tasnim News Agency (@Tasnimnews_EN) May 17, 2026
A massive explosion rocked the town of Beit Shemesh west of Al-Quds on Saturday, sending a large mushroom cloud billowing into the sky. Emergencies were blocked from reaching the scene of the blast. pic.twitter.com/8V622u5iMD
ایف-35 لڑاکا طیاروں کے لیے کروڑوں ڈالرز کا نیا معاہدہ
یہ دھماکہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل نے حال ہی میں اپنے جدید ترین ایف-35 'ادیر' (Adir) فائٹر جیٹس کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک بڑے دفاعی معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق، انہوں نے ففتھ جنریشن کے ان جنگی طیاروں کی پرواز کی حد (Range) کو مزید طویل کرنے کے لیے 34 ملین ڈالرز (تقریباً 100 ملین اسرائیلی شیکل) سے زائد کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
یہ معاہدہ اسرائیلی وزارتِ دفاع کے پروکیورمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور 'ایلبیٹ سسٹمز' (Elbit Systems) کی ذیلی کمپنی 'سائیکلون' (Cyclone) کے درمیان طے پایا ہے۔ اس منصوبے کے تحت لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ ایف-35 طیاروں کے لیے بیرونی فیول ٹینکس (External Fuel Tanks) تیار اور نصب کیے جائیں گے، جو طیارے کو ایندھن بھرنے کے لیے بار بار اترے بغیر طویل فاصلے تک مشن انجام دینے کے قابل بنائیں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلیاں خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر کی جا رہی ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے فضائی دفاعی صلاحیتوں میں یہ حالیہ اضافہ اور میزائل انجنوں کے تجربات اس کی مستقبل کی فوجی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔

Comments
Post a Comment