امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہائیوں پرانی سفارتی روایات اور پروٹوکول کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ تائیوان کو اربوں ڈالرز کے ہتھیاروں کی فروخت کے معاملے پر وہاں کے صدر لائی چنگ تے سے براہِ راست بات چیت کریں گے۔ سنہ 1979 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب کسی امریکی صدر اور تائیوانی قیادت کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم ہوگا۔ واشنگٹن نے 1979 میں تائیوان سے باقاعدہ تعلقات ختم کر کے بیجنگ حکومت کو تسلیم کر لیا تھا، جس کے بعد سے تائیوان کے ساتھ براہِ راست صدارتی سطح کا رابطہ ممنوع سمجھا جاتا ہے۔
ٹرمپ کا مؤقف اور 14 ارب ڈالرز کا دفاعی سودا
جب بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی کا فیصلہ کرنے سے قبل وہاں کے صدر لائی چنگ تے سے بات کریں گے، تو انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا: "میں ان سے بات کروں گا۔ میں تو سب سے بات کرتا ہوں۔۔۔ ہم تائیوان کے اس مسئلے پر کام کریں گے"۔ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی دو روزہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے ساتھ اپنے تعلقات کو 'شاندار' بھی قرار دیا۔
امریکہ اس وقت تائیوان کو 14 ارب ڈالرز کے ہتھیاروں کے پیکیج کی فروخت پر غور کر رہا ہے، جس میں اینٹی ڈرون آلات اور فضائی دفاعی میزائل سسٹم شامل ہیں۔ تائیوان ریلیشنز ایکٹ 1979 کے تحت امریکہ قانوناً تائیوان کو دفاعی ہتھیار فراہم کرنے کا پابند ہے، لیکن چین اس کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ فائننشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، بیجنگ نے اس امریکی دفاعی سودے پر احتجاجاً پینٹاگون کے اعلیٰ پالیسی اہلکار ایلبرج کولبی کے دورہِ چین کی منظوری بھی روک دی ہے۔
چین کا شدید ردِعمل اور شی جن پنگ کی وارننگ
بیجنگ میں چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران اس ممکنہ رابطے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ چین، امریکہ اور تائیوان کے درمیان کسی بھی قسم کے سرکاری روابط اور ہتھیاروں کی فروخت کی "شدید مخالفت" کرتا ہے۔ چین نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ تائیوان میں موجود علیحدگی پسند قوتوں کو غلط پیغامات بھیجنا بند کرے۔
گزشتہ ہفتے ہونے والی ملاقات میں چینی صدر شی جن پنگ نے ٹرمپ کو واضح طور پر وارننگ دی تھی کہ تائیوان کا معاملہ پاک-امریکہ-چین تعلقات میں سب سے حساس ترین نکتہ ہے اور اس پر کسی بھی غلط فیصلے کے نتیجے میں دونوں سپر پاورز کے درمیان براہِ راست "فوجی تصادم" شروع ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اس ملاقات میں شی جن پنگ سے ہتھیاروں کی فروخت پر تفصیلی بات چیت کی تھی، جو کہ 1982 کے اس امریکی وعدے کی بھی خلاف ورزی ہے جس کے تحت امریکہ نے تائیوان کو یقین دلایا تھا کہ وہ ہتھیاروں کی فروخت پر بیجنگ سے مشاورت نہیں کرے گا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "1980 کی دہائی کو اب بہت وقت گزر چکا ہے"۔
تائیوان کا مؤقف؛ خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں
چینی فوجی دباؤ کے جواب میں تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے اپنے حالیہ بیانات میں اصرار کیا ہے کہ تائیوان ایک خودمختار، آزاد اور جمہوری ملک ہے اور آبنائے تائیوان میں امن قائم رکھنے کے لیے ملک کے دفاع کو کسی صورت قربان یا اس کا سودا نہیں کیا جائے گا۔ تائیوان کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ صدر لائی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ خطے کی صورتحال اور استحکام پر بات چیت کر کے "خوش" ہوں گے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹرمپ نے یہ پروٹوکول توڑا ہو؛ اس سے قبل 2016 میں صدر منتخب ہونے کے بعد بھی انہوں نے اس وقت کی تائیوانی صدر تسائی انگ وین سے فون پر بات کی تھی، جس پر چین نے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔
ٹرمپ کا یہ ممکنہ رابطہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ایک نئے سفارتی اور عسکری تنازع کو جنم دے سکتا ہے، جس پر پوری دنیا کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

Comments
Post a Comment