بھارتی سیاست میں روایتی انتخابی نشانات جیسے بی جے پی کے کمل یا کانگریس کے ہاتھ کے علاوہ اب ایک غیر متوقع جاندار مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور وہ ہے "کاکروچ" (چوہے مارا یا لال بیگ)۔ انٹرنیٹ پر متحرک نوجوانوں نے اس ضدی، ناپسندیدہ اور سخت جان کیڑے کو اپنی سیاسی بیزاری اور احتجاج کی علامت بنا لیا ہے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک باقاعدہ ڈیجیٹل تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔
'کاکروچ جنتا پارٹی' (CJP) کا قیام اور تنازع
اس انوکھی مہم کا آغاز گزشتہ ہفتے اس وقت ہوا جب بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کی جانب سے ایک سماعت کے دوران مبینہ طور پر بے روزگار نوجوان صحافیوں اور سماجی کارکنوں کا موازنہ کاکروچ اور طفیلئے (Parasites) سے کیا گیا۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ صرف "جعلی ڈگری ہولڈرز" کی طرف تھا، لیکن تب تک سوشل میڈیا پر غصے اور طنز کا طوفان آ چکا تھا اور نوجوانوں نے "کاکروچ جنتا پارٹی" (CJP) کے نام سے ایک طنزیہ آن لائن پلیٹ فارم کھڑا کر دیا۔
اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے بانی ابھیجیت دیپکے ہیں، جو بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم اور پولیٹیکل کمیونیکیشن اسٹریٹجسٹ ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹر (X) پر ہیش ٹیگ #MainBhiCockroach ("میں بھی کاکروچ ہوں") شروع کیا، جسے اپوزیشن رہنماؤں کی بھی حمایت حاصل ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے نوجوان والینٹیئرز نے احتجاجی مظاہروں اور صفائی کی مہمات میں کاکروچ کے لباس پہن کر شرکت کرنا شروع کر دی، جس نے اس طنزیہ تحریک کو زمین پر بھی مقبول بنا دیا۔
دنیا کی سب سے بڑی پارٹی کو شکست اور حکومتی ایکشن
اس مہم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 'کاکروچ جنتا پارٹی' کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر فالوورز کی تعداد 10 ملین (ایک کروڑ) سے تجاوز کر گئی ہے، جس نے مودی کی جماعت بی جے پی کے آفیشل اکاؤنٹ (8.7 ملین فالوورز) کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس غیر معمولی کامیابی کے بعد مہم کے ٹوئٹر (X) اکاؤنٹ کو بھارت میں قانونی برقراری کا جواز بنا کر بلاک کر دیا گیا ہے، لیکن نوجوانوں کا جوش برقرار ہے۔
نوجوانوں کی مایوسی اور میم (Meme) کلچر
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مہم بھارت کے نوجوانوں میں روایتی سیاست سے بڑھتی ہوئی دوری اور مایوسی کو ظاہر کرتی ہے۔ بھارت کی 1.4 ارب آبادی کا نصف حصہ 30 سال سے کم عمر ہے، لیکن حالیہ سروے کے مطابق 29 فیصد نوجوان سیاست سے دور رہتے ہیں۔ تیزی سے بڑھتی معیشت کے باوجود روزگار کے مواقع کی کمی، مہنگائی اور بدعنوانی نے نوجوان نسل کو 'میم کلچر' اور طنز کے ذریعے اپنا غصہ نکالنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ مہم جہاں ہنسی مذاق کا ذریعہ ہے، وہیں اس کے پیچھے میڈیا ریفارمز اور شفاف انتخابات کے سنجیدہ مطالبات بھی چھپے ہیں۔
ماضی میں نوجوان اپنے مطالبات کے لیے منشور (Manifestos) لکھتے تھے، لیکن ڈیجیٹل دور میں وہ کیڑوں کو اپنا نشان بنا کر مقبول ترین سیاسی جماعتوں کو چیلنج کر رہے ہیں۔

Comments
Post a Comment