مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ جنگ نے عالمی فضائی سفر کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ لندن کے مصروف ترین ہیتھرو ایئرپورٹ نے گزشتہ ماہ مسافروں کی تعداد میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی ہے، جو کہ 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں ایک بڑی گراوٹ ہے۔
جنگ کے باعث سفری رجحان میں تبدیلی
رپورٹ کے مطابق، اپریل کے مہینے میں تقریباً 6.7 ملین افراد نے ہیتھرو سے سفر کیا، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں پانچ فیصد کم ہے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران تنازع کی وجہ سے بین الاقوامی مسافروں نے اپنے سفری منصوبوں میں تبدیلی کی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر پروازوں کی منسوخی اور تاخیر جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔
خلیجی ممالک کے بجائے لندن کا رخ
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں براہِ راست سفر کرنے والے مسافروں میں کمی آئی ہے، وہیں دوسری طرف 'ٹرانزٹ' (رک کر آگے جانے والے) مسافروں کی تعداد میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایشیا اور آسٹریلیا جانے والے مسافروں نے دبئی اور دوحہ جیسے خلیجی فضائی مراکز (Hubs) کے بجائے لندن کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ جنگ زدہ علاقے کی فضائی حدود سے بچا جا سکے۔
تیل کا بحران اور بڑھتے ہوئے کرایے
ایران جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر خام تیل کی فراہمی کو شدید متاثر کیا ہے۔
فیول کی قیمت: طیاروں کے ایندھن (Jet Fuel) کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں دگنی ہو کر 181 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
ٹکٹوں میں اضافہ: برٹش ایئرویز کے مالکان نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے فضائی کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔
مستقبل کی غیر یقینی صورتحال
ہیتھرو کے چیف ایگزیکٹو، تھامس وولڈ بائے کا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال چیلنجنگ ہے لیکن فی الحال ایندھن کی سپلائی مستحکم ہے۔ تاہم، ایئرپورٹ انتظامیہ آئندہ ماہ 2026 کے لیے اپنے مسافروں کے تخمینے پر نظرِ ثانی کرے گی، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والا تیل کا بحران موسمِ گرما میں پروازوں کے شیڈول کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔
تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments
Post a Comment