ایران کا بڑا فیصلہ؛ سپریم لیڈر کا یورینیم ملک سے باہر بھیجنے سے انکار، اماراتی قیادت بھڑک اٹھی

khamenei-uranium-decision
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری نازک امن مذاکرات اس وقت شدید تعطل کا شکار ہو گئے ہیں جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک بڑا حکم جاری کرتے ہوئے ملک کا افزودہ یورینیم (Enriched Uranium) بیرونِ ملک بھیجنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ تہران کے اس سخت فیصلے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے مطالبات کو بری طرح مسترد کر دیا ہے، جس سے خطے میں جنگ بندی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

ایٹمی ذخائر پر ایران کا سخت موقف اور اسرائیلی ردعمل

ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کے تحت ایران کو اپنا ایٹمی گریڈ کے قریب ترین افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر منتقل کرنا ہوگا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کا موقف ہے کہ جب تک ایران کا ایٹمی مواد تلف نہیں ہوتا اور اس کی بیلسٹک میزائل صلاحیت ختم نہیں ہوتی، جنگ ختم نہیں سمجھی جائے گی۔ تاہم، ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ یورینیم کو باہر بھیجنے سے ملک امریکہ اور اسرائیل کے مستقبل کے حملوں کے سامنے بالکل کمزور ہو جائے گا۔ روس نے بھی ایران کے اس موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے ایٹمی ذخائر کا فیصلہ کرنے کا حق صرف ایران کو ہے۔

آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور امارات کی سخت تنبیہ

دوسری جانب، ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں باقاعدہ طور پر اپنی نئی انتظامی حدود کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اب وہاں سے گزرنے والے تمام تجارتی و عسکری بحری جہازوں کو ایرانی اتھارٹی سے پہلے اجازت لینا ہوگی۔ ایران کے اس اقدام پر متحدہ عرب امارات (UAE) شدید غصے میں آ گیا ہے۔ صدرِ امارات کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول یا اماراتی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی کوششیں "محض خام خیالی اور خوابوں کے ٹکڑے" ہیں۔ انہوں نے ایران پر برسے ہوئے کہا کہ تہران کی جارحانہ زبان اور کھوکھلی دوستی کے دعووں کی وجہ سے عرب دنیا میں اس کا بھروسہ ختم ہو چکا ہے۔

پاکستانی وزیرِ داخلہ کا دورہِ تہران اور ملاحوں کی رہائی

ان شدید سیکیورٹی خطرات اور خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کی ثالثی کوششیں پوری طاقت سے جاری ہیں۔ پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تہران کا اہم دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے طویل ملاقات کی۔ پاکستان کی اس کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں سنگاپور کی حدود سے امریکی فورسز کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے والے 20 ایرانی ملاحوں کو رہا کروا کر اسلام آباد کے راستے بحفاظت تہران پہنچا دیا گیا ہے۔ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اس مخلصانہ اور انسانی ہمدردی کے اقدام پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔

محل وقوع اور وقت کی نزاکت کو دیکھا جائے تو پاکستان اس وقت دنیا کو ایک ہولناک ایٹمی و علاقائی جنگ سے بچانے کے لیے فرنٹ لائن پر کھڑا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Supreme Leader Says Enriched Uranium Must Stay in Iran


Iran's Supreme Leader Ayatollah Mojtaba Khamenei has issued a decisive directive stating that the country's near-weapons-grade enriched uranium will not be sent abroad. This firm stance directly challenges a primary US and Israeli demand at the ongoing peace talks, further complicating efforts to end the current geopolitical conflict.

The Nuclear Stockpile Dispute

Israeli officials had noted that US President Donald Trump gave assurances that any final peace deal must include the removal of Iran's highly enriched uranium. Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu reiterated that the military campaign would not conclude until Iran's nuclear material is extracted and its ballistic missile capabilities are dismantled. However, Tehran firmly believes that relinquishing these stockpiles would expose the nation to future military aggression from Washington and Tel Aviv. Russia has supported Iran's sovereignty, declaring that Tehran alone should decide the fate of its uranium.

Strait of Hormuz and UAE's Sharp Response

Tensions expanded further as Iran formally designated its new management framework over the strategic Strait of Hormuz, mandating prior authorization for all transiting vessels. This drew a sharp rebuke from the United Arab Emirates. Anwar Gargash, Diplomatic Adviser to the UAE President, dismissed Iran's maritime claims as "fragments of dreams," adding that credibility had been lost amidst aggressive rhetoric and hollow declarations of friendship, urging responsible state behavior.

Pakistan's Mediation and Repatriation Breakthrough

Amidst the escalating regional friction, Pakistan continues to play a vital diplomatic role. Pakistani Interior Minister Mohsin Naqvi held critical discussions with Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi in Tehran. Following back-channel diplomacy facilitated by Islamabad, twenty Iranian sailors previously detained on a seized vessel in Singapore were safely repatriated to Tehran. Iranian Ambassador Reza Amiri Moghadam expressed deep appreciation to Prime Minister Mohammad Shehbaz Sharif and Pakistani authorities for this successful humanitarian breakthrough.

The global community remains focused on Pakistan's diplomatic channels as the ultimate crossroad between a lasting regional ceasefire or a catastrophic escalation.

Comments