ہنٹا وائرس کا شکار بحری جہاز اسپین روانہ، انسانوں سے انسانوں میں منتقلی کی تصدیق


ہنٹا وائرس کے مہلک پھیلاؤ کا شکار لگژری بحری جہاز 'ایم وی ہونڈیئس' جو کئی روز سے جزیرہ کیپ ورڈے کے ساحل پر پھنسا ہوا تھا، اب اسپین روانہ ہو رہا ہے۔ اس بحری جہاز پر تقریباً 150 افراد سوار ہیں، جن میں سے اب تک تین مسافر ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور یورپی یونین کی درخواست پر اسپین نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جہاز کو اپنے ساحل پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

جنوبی افریقہ کے طبی ماہرین نے ایک تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے مسافروں میں ہنٹا وائرس کی 'انڈیز' قسم پائی گئی ہے۔ یہ اس وائرس کی واحد قسم ہے جو نایاب صورتوں میں ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عام طور پر یہ وائرس چوہوں کے فضلے یا تھوک سے پھیلتا ہے، لیکن جنوبی افریقہ میں زیرِ علاج مریضوں کے ٹیسٹ نے اس نایاب منتقلی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا پھیلاؤ صرف انتہائی قریبی رابطے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

دوسری جانب سوئس حکومت نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسی جہاز کا ایک مسافر زیورخ میں زیرِ علاج ہے، جبکہ نیدرلینڈز اپنے تین مریضوں کو جہاز سے نکال کر وطن واپس منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اسپین کے میڈیا کے مطابق جہاز کینری آئی لینڈ کے ساحل پر لنگر انداز ہوگا، جس پر مقامی حکام نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم حتمی فیصلہ مرکزی حکومت کا ہوگا۔

متاثرہ افراد کے قریبی رابطے میں رہنے والے 62 افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے جن کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ اس وائرس سے عام عوام کو خطرہ بہت کم ہے، لیکن احتیاطی تدابیر کے طور پر تمام بین الاقوامی پروٹوکولز پر عمل کیا جا رہا ہے۔

Comments