جاپان نے جمعرات کے روز چین اور روس کی جانب سے اپنی "دوبارہ عسکری سازی" (Remilitarisation) کے حوالے سے عائد کیے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں "بے بنیاد" قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ روز بیجنگ میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جاپان خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال کر اپنی فوجی طاقت کو دوبارہ تیزی سے بڑھا رہا ہے۔
جاپان کا بیجنگ اور ماسکو کو کرارا جواب
ٹوکیو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاپانی ڈپٹی چیف کیبنٹ سیکریٹری مسانائو اوزاکی نے کہا کہ جاپان پر انگلی اٹھانے کے بجائے چین کو بین الاقوامی برادری کے لیے تشویش کا باعث بننے والی اپنی جارحانہ فوجی سرگرمیوں اور رویے کو تبدیل کرنا چاہیے۔ انہوں نے روس کو بھی سخت الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرین پر اپنی غیر قانونی جارحیت اور حملے فوری طور پر بند کرے۔ یہ تیکھا جواب روسی صدر پیوٹن کے دو روزہ دورہِ چین کے اختتام پر سامنے آیا ہے جہاں دونوں ممالک نے جاپان کے خلاف محاذ آرائی کی تھی۔
جاپان اور چین کے تعلقات میں تناؤ اس وقت مزید بڑھ گیا تھا جب جاپانی وزیر اعظم ثناء تاکایچی نے گزشتہ سال نومبر میں تائیوان کے معاملے پر ایک بڑا بیان دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چین نے تائیوان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تو یہ جاپان کی بقا کے لیے خطرہ تصور ہوگا، اور ایسی صورتحال میں جاپان اپنے دفاع کے لیے اجتماعی حقِ خودارادیت کا استعمال کر سکتا ہے۔ اس بیان کے بعد سے چین مسلسل جاپان کی فوجی تیاریوں کی مخالفت کر رہا ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپانی دفاعی پالیسی میں تاریخی تبدیلی
جاپان نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے برقرار اپنی امن پسند (Pacifist) سیکیورٹی پالیسی کو خیرباد کہتے ہوئے گزشتہ ماہ فوجی آلات اور مہلک ہتھیاروں کی برآمدات پر عائد دیرینہ پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحادیوں کے دفاعی وعدوں میں لچک اور ایران و یوکرین جنگوں کے باعث امریکی ہتھیاروں کی سپلائی پر پڑنے والے دباؤ کو دیکھتے ہوئے وارسا (پولینڈ) سے لے کر منیلا (فلپائن) تک کئی ممالک جاپانی ہتھیاروں کی خریداری میں گہری دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
دفاعی بجٹ اور جدید ترین ٹیکنالوجی
وزیر اعظم ثناء تاکایچی کی حکمران جماعت نے رواں ہفتے دفاعی قوانین میں ان بڑی تبدیلیوں کی منظوری دی ہے، جس کا باقاعدہ نفاذ رواں ماہ ہی متوقع ہے۔ جاپان نے اگرچہ خود کو طویل عرصے تک عالمی ہتھیاروں کی منڈی سے دور رکھا، لیکن وہ اپنی فوج پر سالانہ 60 ارب ڈالرز (بیس کروڑ روپے سے زائد) خرچ کرتا ہے۔ یہ خطیر رقم جاپانی دفاعی صنعت کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ آبدوزوں (Submarines) اور جدید ترین لڑاکا طیاروں جیسے مہلک اور جدید ترین جنگی نظام خود تیار کر سکے۔
ٹوکیو کے اس نئے اور جارحانہ رخ نے جہاں مشرقِ بعید میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے، وہی روس اور چین کے بلاک کے لیے یہ ایک بڑا معاشی اور عسکری چیلنج بن کر ابھرا ہے۔

Comments
Post a Comment