آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، ٹرمپ کی جنگ بندی برقرار رہنے کی تصدیق


 آبنائے ہرمز میں جمعرات کی رات امریکہ اور ایران کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔ یہ تازہ جھڑپ ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران امریکی امن تجویز پر غور کر رہا تھا، تاہم اس واقعے نے صورتحال کو ایک بار پھر کشیدہ کر دیا ہے۔

ایران کی عسکری قیادت نے الزام لگایا ہے کہ امریکی افواج نے ان کے تیل بردار بحری جہاز اور ساحلی علاقوں بشمول بندر خمیر اور قشم کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے موقف اختیار کیا کہ یہ کارروائی دفاعی تھی کیونکہ ایرانی فورسز نے امریکی تباہ کن بحری جہازوں پر ڈرونز، میزائلوں اور چھوٹی کشتیوں سے حملہ کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے مخصوص انداز میں دعویٰ کیا کہ امریکی حملے میں ایرانی کشتیاں تباہ ہو گئیں اور دشمن کو "بڑا نقصان" پہنچا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے بھی اطلاع دی ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ اس کشیدگی کے باوجود، سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے ساتھ 14 نکاتی معاہدے کے قریب ہے، جس کی ثالثی پاکستان کر رہا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی کوششیں اس عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں بدل دیں گی۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدے پر فوری دستخط نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس سے بھی زیادہ شدید بمباری کی جائے گی۔ دوسری طرف ایرانی پارلیمنٹ کے ارکان نے امریکی شرائط کو "خواب و خیال" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فورسز کا ہاتھ اب بھی "ٹریگر" پر ہے۔ اسرائیل نے اس حالیہ جھڑپ میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے انکار کیا ہے۔

Comments