غزہ امدادی جہاز پر اسرائیلی فورسز کا حملہ! عبدالستار ایدھی کے پوتے سعد ایدھی گرفتار' فوری رہائی کا مطالبہ
پاکستان نے بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے محصور مسلمانوں کے لیے امداد لے جانے والے بحری قافلے "گلوبل صمود فلوٹیلا" پر اسرائیلی افواج کے حملے اور قبضے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اسرائیل کی جانب سے امدادی کارکنوں کی غیر قانونی حراست اور ان پر تشدد کی رپورٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کے پوتے سعد ایدھی سمیت تمام عالمی رضاکاروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی پانیوں میں غیر قانونی کارروائی
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ویڈیو پیغام میں تصدیق کی ہے کہ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 1 بجے، اسرائیلی فورسز نے قبرص کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں غزہ امدادی قافلے کو زبردستی روکا اور ان کے بیٹے سعد ایدھی سمیت دیگر ممالک کے رضا کاروں کو گرفتار کر لیا۔ فیصل ایدھی کا کہنا تھا، "یہ بحری جہاز بین الاقوامی پانیوں میں موجود تھے جہاں اسرائیل کو کارروائی کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ ہمیں تاحال معلوم نہیں کہ ہمارے بچوں کو گرفتار کر کے کہاں منتقل کیا گیا ہے۔" انہوں نے حکومتِ پاکستان اور دفترِ خارجہ سے اس معاملے پر فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق، پاکستان اس وقت خطے میں موجود اپنے تمام سفارتی مشنز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ حراست میں لیے گئے پاکستانی شہریوں کی باحفاظت اور جلد از جلد وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان نے عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر نظربند کیے گئے ان پرامن امدادی کارکنوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کو یقینی بنائے۔
🔊PR No.1️⃣2️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) May 19, 2026
Joint Statement by the Foreign Ministers of Pakistan, Türkiye, Bangladesh, Brazil, Colombia, Indonesia, Jordan, Libya, Maldives, and Spain Regarding the Israeli Assaults on the Global Sumud Flotilla, 18th May 2026 pic.twitter.com/TS99F2w31n
عالمی سطح پر شدید ردِعمل اور مشترکہ اعلامیہ
اسرائیل کی اس وحشیانہ کارروائی کے خلاف پاکستان سمیت دنیا کے 10 ممالک نے ایک مشترکہ مذمتی اعلامیے پر دستخط کیے ہیں۔ ترکیہ، بنگلہ دیش، برازیل، کولمبیا، انڈونیشیا، اردن، لیبیا، مالدیپ اور اسپین کے وزرائے خارجہ نے اس مشترکہ بیان میں واضح کیا ہے کہ "گلوبل صمود فلوٹیلا" ایک مکمل پرامن اور سویلین مشن تھا جس کا مقصد غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی حالتِ زار کو دنیا کے سامنے لانا اور ان تک ادویات پہنچانا تھا، لہٰذا اس پر فوجی حملہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے بھی اس واقعے کو انسانی حقوق اور آزادیِ اظہارِ رائے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
غزہ کی صورتحال اور فلوٹیلا مشن کی تفصیلات
ترکیہ کے جنوبی ساحلوں سے روانہ ہونے والے اس امدادی قافلے میں 39 ممالک کے 426 انسانی حقوق کے کارکن شامل تھے جو 54 بحری جہازوں کے ذریعے غزہ کے لیے امداد لے جا رہے تھے۔ اسرائیلی بحریہ نے غزہ کے ساحل سے تقریباً 250 ناٹیکل میل دور ہی ان جہازوں کو گھیرے میں لے کر 39 کشتیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے 2007 سے غزہ کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے اور اکتوبر 2023 سے جاری حالیہ جارحیت کے بعد سے وہاں خوراک، پانی اور ادویات کی شدید ترین قلت پیدا ہو چکی ہے، جس کے باعث یہ عالمی امدادی قافلے محصورین کے لیے زندگی کی آخری امید بنے ہوئے ہیں۔
مختصر یہ کہ پرامن امدادی کارکنوں پر طاقت کا استعمال اسرائیل کے جارحانہ عزائم کو بے نقاب کرتا ہے، اور اب گیند عالمی برادری کے کورٹ میں ہے کہ وہ ان معصوم جانوں کو کیسے رہا کرواتی ہے۔

Comments
Post a Comment