وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ اس معاملے میں کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ منگل کے روز بجلی کے شعبے میں اصلاحاتی اقدامات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے توانائی کی مستقبل کی ضروریات کو متبادل ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پن بجلی، شمسی توانائی، بائیو گیس اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے تاکہ پیداواری لاگت کو کم کر کے معاشی ترقی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انہوں نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے اقدامات کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ جن بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے حالیہ دنوں میں میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی کی ہے، ان کے خلاف سخت محکوماتی کارروائی کی جائے۔
اجلاس کے دوران حکام کو ہدایت کی گئی کہ بجلی چوری کے زیادہ شکار علاقوں میں ٹرانسفارمرز پر اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے عمل کو تیز کیا جائے اور ملک میں بجلی کی مسابقتی مارکیٹ کے فروغ کے لیے اقدامات کو بھی فاسٹ ٹریک پر لایا جائے۔ وزیراعظم نے نجی شعبے کو ابتدائی مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے کام کو بھی جلد مکمل کرنے کا حکم دیا۔
بریفنگ کے دوران شرکاء کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں موثر اقدامات کی بدولت بجلی چوری، عدم ادائیگی اور نقصانات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ترسیل اور تقسیم کے نقصانات جو جون 2024 میں 18.3 فیصد تھے، مارچ 2026 میں کم ہو کر 15.3 فیصد رہ گئے ہیں۔ اسی طرح بجلی کے بلوں کی ریکوری میں بھی بہتری آئی ہے اور یہ شرح 90 فیصد سے بڑھ کر 96.46 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تین بجلی کمپنیوں میں نجی شعبے کو شامل کرنے پر کام جاری ہے اور نومبر تک اس کا عمل مکمل ہونے کی امید ہے۔

Comments
Post a Comment