گوگل کے ملازمین کی بغاوت: مصنوعی ذہانت کے جنگی استعمال پر احتجاج

گوگل کے ملازمین کا ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے خلاف احتجاج اور اپنی تنظیم بنانے کا فیصلہ۔


لندن:
برطانیہ میں گوگل کے لیے مصنوعی ذہانت تیار کرنے والے ماہرین نے کمپنی کی انتظامیہ کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اپنی تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کی سب سے بڑی وجہ کمپنی کا امریکی فوج کے ساتھ ہونے والا وہ حالیہ معاہدہ ہے جس کے تحت انسانی عقل کی طرح کام کرنے والی جدید ٹیکنالوجی کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ملازمین کے تحفظات: کمپنی کے شعبہ ’ڈیپ مائنڈ‘ سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی محنت اور ایجادات کو انسانیت کی تباہی یا کسی ملک کی فوجی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ ملازمین نے انتظامیہ کو بھیجے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ ان کے نمائندوں کو کمپنی کے فیصلوں میں شامل کیا جائے تاکہ ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔

جنگی معاہدوں پر تشویش: ملازمین کی جانب سے اس بات پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے کہ گوگل نے اپنی ٹیکنالوجی کو امریکی محکمہ دفاع اور دیگر ممالک کی افواج کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی ٹیکنالوجی جو خود بخود فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اگر اسے جنگوں میں استعمال کیا گیا تو اس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور انسانی حقوق کی پامالی کا خطرہ ہے۔

احتجاج کا طریقہ کار: ملازمین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ کام روک دیں گے اور نئی ٹیکنالوجی پر ہونے والی تحقیق کو معطل کر دیں گے۔ اس سے قبل بھی گوگل کے سینکڑوں ملازمین انتظامیہ کو خط لکھ چکے ہیں جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمپنی اپنی ساکھ بچانے کے لیے ایسے منصوبوں سے پیچھے ہٹ جائے جو انسانیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

Comments