بھارت کی "آہنی خاتون" ممتا بنرجی کو عبرتناک شکست!


 گزشتہ پندرہ برسوں سے ممتا بنرجی اور ان کی علاقائی جماعت، ترنمول کانگریس، بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سیاست میں ناقابلِ شکست تصور کیے جاتے تھے۔ یہ تاثر عام تھا کہ ممتا بنرجی ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ جانتی ہیں اور ان کا سیاسی قلعہ ناقابلِ تسخیر ہے۔ لیکن پیر کے روز آنے والے انتخابی نتائج نے اس تاثر کو چکنا چور کر دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہاتھوں ممتا بنرجی کی شکست نے ان کے چوتھی بار وزیراعلیٰ بننے کے خواب کو ادھورا چھوڑ دیا ہے۔ یہ وہ اعزاز تھا جو انہیں جیوتی باسو اور نوین پٹنائک جیسے طویل ترین عرصہ تک حکومت کرنے والے رہنماؤں کی صف میں لا کھڑا کرتا، مگر اب ان کا سیاسی کیریئر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکا ہے۔

ایک انقلابی شخصیت کا عروج

ممتا بنرجی، جنہیں ان کے چاہنے والے 'دیدی' (بڑی بہن) کہتے ہیں، کا سیاسی سفر کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔ سوتی ساڑھی اور ربڑ کی چپلوں میں ملبوس اس پستہ قد خاتون نے 2011 میں جب مغربی بنگال میں چونتیس سالہ کمیونسٹ اقتدار کا خاتمہ کیا، تو پوری دنیا حیران رہ گئی۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی جڑیں بنگال میں اس قدر گہری تھیں کہ ان کی شکست کا تصور بھی ناممکن لگتا تھا۔ نیویارک ٹائمز نے اس وقت ممتا بنرجی کو ایک "ایسا ہتھیار" قرار دیا تھا جس نے بنگال کی سیاسی برلن دیوار کو گرا دیا۔ ٹائم میگزین نے انہیں دنیا کی 100 بااثر شخصیات میں شامل کیا، جو ان کی عالمی اہمیت کا اعتراف تھا۔

گلی کوچوں کی سیاست سے اقتدار تک

ممتا بنرجی کی سیاست بنگال کے احتجاجی کلچر میں پروان چڑھی۔ کولکتہ کے ایک نچلے متوسط طبقے کے خاندان میں پیدا ہونے والی ممتا نے کانگریس کے طلبہ ونگ سے سیاست کا آغاز کیا۔ 1990 میں ایک احتجاجی مارچ کے دوران کمیونسٹ کارکنوں کے مبینہ حملے میں ان کی کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، جس کے بعد وہ کئی روز ہسپتال میں رہیں۔ اس واقعے نے ان کی شخصیت کو ایک "مجاہد" اور "مظلوم" کے طور پر عوام میں مقبول کر دیا۔ انہوں نے کانگریس سے الگ ہو کر اپنی جماعت، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) بنائی اور کسانوں کے حقوق کی علمبردار بن کر ابھریں۔ سنگور اور نندی گرام کے احتجاجی تحریکوں نے انہیں غریب کسانوں کا مسیحا بنا دیا، اگرچہ اس کی وجہ سے وہ شہری متوسط طبقے اور سرمایہ کاروں سے دور ہوتی گئیں جو ان پر صنعت دشمنی کا الزام لگاتے تھے۔

اقتدار کا ماڈل اور زوال کے اسباب

ممتا بنرجی نے کمیونسٹوں کے "پارٹی سوسائٹی" ماڈل کو وراثت میں پایا لیکن اسے ایک "فرنچائز ماڈل" میں بدل دیا۔ اس نظام میں مقامی طاقتور افراد اور نچلی سطح کے رہنماؤں کو اپنی من مانی کرنے اور کاروباری مفادات حاصل کرنے کی چھوٹ دی گئی، بشرطیکہ وہ ممتا بنرجی کے وفادار رہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اسی نظام نے پارٹی کو اخلاقی طور پر کمزور کر دیا۔ رہنماؤں کی مادی فوائد کی ہوس نے عوام اور پارٹی کے درمیان خلیج پیدا کر دی۔

زوال کی دیگر وجوہات میں مغربی بنگال کا بڑھتا ہوا مالیاتی بحران بھی شامل ہے۔ ممتا بنرجی کی خواتین کے لیے فلاحی اسکیمیں ریاست کے ریونیو کا ایک چوتھائی حصہ ہضم کر رہی تھیں۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمتوں کی کمی، اساتذہ کی بھرتی کا بڑا اسکینڈل، بھتہ خوری کے نیٹ ورکس اور خواتین کی حفاظت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات نے حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔

سیاسی بقا کی جنگ اور بی جے پی کا چیلنج

شکست کے بعد اب ممتا بنرجی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی پارٹی کو متحد رکھنا ہے۔ بنگال کی سیاست کی تاریخ رہی ہے کہ یہاں ہارنے والی جماعت کے رہنما اور مقامی "طاقتور" بہت جلد نئے مرکزِ اقتدار کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ترنمول کانگریس کے کئی رہنما اب بی جے پی کی طرف رخ کریں گے، جس سے پارٹی کے اندر تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔

ممتا بنرجی کی سیاسی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ وہ کسی عہدے یا اختیار کے بغیر میدان میں ہوں گی۔ 71 سالہ رہنما کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن یہ شکست ان کے لیے گزشتہ تمام بحرانوں سے زیادہ سنگین ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مودی کی بی جے پی کی یک طرفہ بالادستی نے اب سیاسی میدان کو وہ توازن نہیں رہنے دیا جس میں ممتا جیسے رہنما آسانی سے واپسی کر سکیں۔

کیا ممتا بنرجی دوبارہ واپسی کر سکیں گی؟

پیر کی شام جب نتائج واضح ہوئے، تو ممتا بنرجی کا انداز وہی پرانا احتجاجی تھا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کی طرفداری کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ مینڈیٹ ان سے چھینا گیا ہے۔ انہوں نے خود کو ایک "آزاد پرندہ" قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وہ دوبارہ سڑکوں پر نکل کر اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط کریں گی۔

ان کا یہ جملہ کہ "میں کہیں بھی ہو سکتی ہوں، میں کہیں بھی لڑ سکتی ہوں، اب میں سڑکوں پر ہوں گی،" اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایک بار پھر اسی عوامی احتجاج کی طرف لوٹ رہی ہیں جس نے انہیں اقتدار کی بلندیوں تک پہنچایا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ خود کو دوبارہ بدل سکیں گی یا وہ اسی پرانے سیاسی نظام کا ایک دھندلا سا عکس بن کر رہ جائیں گی جسے وہ زندگی بھر مٹانے کی کوشش کرتی رہیں۔

تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments