لندن میں سابقہ عبادت گاہ کو آگ لگا دی گئی

Counter-terrorism police investigating the scene of a suspected arson attack at a former synagogue in Whitechapel, East London.

 لندن کے علاقے وائٹ چیپل میں منگل کی علی الصبح ایک سابقہ یہودی عبادت گاہ (سنیگاگ) کی عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ ابتدائی طور پر اسے ایک عام حادثہ سمجھا جا رہا تھا، لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج اور ابتدائی شواہد کے معائنے کے بعد میٹروپولیٹن پولیس نے اسے "دانستہ طور پر لگائی گئی آگ" قرار دے دیا ہے۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اب برطانیہ کی انسدادِ دہشت گردی پولیس اس کیس کی باقاعدہ تحقیقات کر رہی ہے۔

لندن فائر بریگیڈ کے مطابق، منگل کی صبح 05:16 بجے مشرقی لندن کے سینٹرل سنیگاگ کی سابقہ عمارت میں آگ لگنے کی کال موصول ہوئی۔ فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر عمارت کے بیرونی حصے میں لگی چھوٹی سی آگ پر قابو پا لیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس نے مقامی آبادی اور خاص طور پر یہودی برادری میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ علاقے کی پولیس چیف، ڈیٹیکٹیو چیف سپرنٹنڈنٹ برطانیہ کلارک نے کہا ہے کہ پولیس اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی پولیس کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلانگن نے تصدیق کی ہے کہ ان کی ٹیم اس واقعے کے محرکات کا جائزہ لے رہی ہے۔ تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کیا اس واقعے کا تعلق شمالی اور شمال مغربی لندن میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والے دیگر حملوں سے تو نہیں؟ کمانڈر فلانگن نے بتایا کہ برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو پہلے ہی "شدید" (Severe) کر دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ حملے کا قوی امکان موجود ہے۔ اسی لیے مختلف کمیونٹی مراکز اور کاروباری مقامات کو سیکیورٹی مشورے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

یہ واقعہ کسی تنہائی میں ہونے والا حادثہ نہیں ہے بلکہ گزشتہ چند ہفتوں سے لندن میں یہودی مراکز اور برادری کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مارچ کے آخر سے اب تک کئی مقامات پر آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ گولڈرز گرین کے علاقے میں چاقو زنی کی ایک واردات بھی ہو چکی ہے جسے پہلے ہی دہشت گردی قرار دے دیا گیا ہے۔ ان واقعات نے برطانوی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔

تحقیقات کا ایک سنسنی خیز پہلو یہ ہے کہ حالیہ زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری "حیی" نامی ایک گروہ نے قبول کی ہے۔ اس نام سے پروپیگنڈا پیغامات سوشل میڈیا کے ان چینلز پر دیکھے گئے ہیں جن کا تعلق مبینہ طور پر ایرانی حکومت سے بتایا جاتا ہے۔ تاہم، انسدادِ دہشت گردی کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ حملے براہِ راست کسی غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ ہیں یا یہ محض "موقع پرست" گروہوں کی کارستانی ہے۔ پولیس اس پہلو پر باریک بینی سے کام کر رہی ہے تاکہ اصل مجرموں تک پہنچا جا سکے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا، وہ گزشتہ چند سالوں سے عبادت گاہ کے طور پر فعال نہیں تھی۔ اس سال کے اوائل میں اسے نیلامی کے لیے پیش کیا گیا تھا اور ایک مسلم گروپ نے اسے خرید کر مسجد اور کمیونٹی سینٹر میں تبدیل کرنے کے لیے بولی بھی دی تھی۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے پرامن بقائے باہمی کے لیے جانا جاتا ہے۔ ایک مقامی شہری 'حمزہ' نے بتایا کہ انہوں نے سنا ہے کہ عمارت پر "فائر بم" پھینکا گیا، لیکن انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کوئی ایسی حرکت کیوں کرے گا۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ (وزیر اعظم ہاؤس) کے ترجمان نے اس واقعے کو "انتہائی تشویشناک اور چونکا دینے والا" قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم کو اس حوالے سے مسلسل اپ ڈیٹس دی جا رہی ہیں اور حکومت نے ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی اور 'اینٹی سیمیٹزم' (یہودی دشمنی) کے خلاف ایک اہم اجلاس بھی طلب کیا ہے۔ کمیونٹی سیکیورٹی ٹرسٹ (CST) نے یہودی برادری کو چوکنا رہنے کی ہدایت کی ہے اور اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری اطلاع دی جائے۔

مقامی خواتین اور شہریوں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک خاتون نے برطانوی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "نفرت پر مبنی کوئی بھی جرم قابلِ قبول نہیں ہے، یہ انتہائی افسوسناک ہے۔" ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے واقعات معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہیں، جن کا مقابلہ صرف اتحاد اور قانون کی بالادستی سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے سرکاری بیانات پر بھروسہ کریں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔

وائٹ چیپل کے اس واقعے نے لندن کے سیکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی پولیس اب ڈیجیٹل فارنزک، سی سی ٹی وی فوٹیج اور انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے کڑیاں جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کیا یہ واقعہ کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ ہے یا کسی انفرادی انتہا پسند کی کارروائی؟ اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں تحقیقات کے مکمل ہونے پر ہوگا۔ فی الحال، لندن کی سڑکوں پر پولیس کی گشت بڑھا دی گئی ہے تاکہ شہریوں کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکے۔

Read this news in English: Click Here

Comments