بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور فلم ساز پوجا بھٹ نے اپنے والد اور نامور ڈائریکٹر مہیش بھٹ کی ذاتی زندگی کے حوالے سے ایک انتہائی چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ پوجا بھٹ نے پہلی بار عوامی سطح پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے والد مہیش بھٹ نے 1986 میں سونی رازدان (عالیہ بھٹ کی والدہ) سے دوسری شادی کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر اسلام قبول کیا تھا تاکہ انہیں اپنی پہلی بیوی (پوجا بھٹ کی والدہ کرن بھٹ) کو طلاق نہ دینی پڑے [3، 4]۔
پہلی بیوی کو طلاق نہ دینے کی انوکھی وجہ
ایک حالیہ یوٹیوب انٹرویو میں پوجا بھٹ نے اپنی غیر روایتی فیملی لائف اور والدین کے تعلقات پر کھل کر بات کی [2، 4]۔ پوجا بھٹ کا کہنا تھا کہ ان کے والد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ زندگی میں جس کا ہاتھ ایک بار تھام لیں، اسے کبھی نہیں چھوڑتے، چاہے وہ ان کی زندگی میں آنے والی خواتین ہوں یا ان کے تیار کردہ فنکار ہوں [1، 3]۔ انہوں نے بتایا کہ مہیش بھٹ سونی رازدان کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنا چاہتے تھے لیکن وہ پوجا کی والدہ کرن کو بھی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے [1، 3]۔ اسی قانونی اور جذباتی الجھن سے بچنے کے لیے انہوں نے اسلام قبول کر کے دوسری شادی کی، کیونکہ ہندو قانون کے تحت پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کی اجازت نہیں ہوتی۔
پوجا بھٹ نے اپنے والد کے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک دُہری زندگی گزارنے یا خفیہ تعلقات رکھنے والے مردوں سے کہیں بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں ایک ایسے باپ کا احترام کرتی ہوں جس نے سب کے سامنے آ کر سچائی کا اعتراف کیا اور اپنے رشتے کو ایک باعزت نام دیا"۔
سونی رازدان اور عالیہ بھٹ کے ساتھ تعلقات
ماضی کی تلخیوں پر بات کرتے ہوئے پوجا بھٹ نے اعتراف کیا کہ شروع میں ان کی والدہ کے لیے یہ سب دیکھنا آسان نہیں تھا اور انہیں دکھ پہنچا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دونوں خاندانوں نے اس سچائی کو وقار کے ساتھ قبول کر لیا [1، 2]۔ پوجا نے بتایا کہ وہ ایک بار اوٹی میں سونی رازدان کے ساتھ بیٹھی تھیں جہاں سونی نے اعتراف کیا کہ وہ کرن کا گھر ٹوٹنے پر شدید جرم (Guilt) کا شکار محسوس کرتی ہیں [1، 2]۔ جس پر پوجا نے سونی کا دل بڑا کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر رشتہ مضبوط ہو تو کوئی تیسرا اس میں جگہ نہیں بنا سکتا، اس لیے وہ خود کو قصوروار نہ سمجھیں [1، 3]۔
پوجا بھٹ کے اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر مہیش بھٹ کی مسلم شناخت اور ان کے ماضی کے اس فیصلے پر ایک نئی اور گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔

Comments
Post a Comment